الَّذِیۡ خَلَقَنِیۡ فَہُوَ یَہۡدِیۡنِ ﴿ۙ۷۸﴾
وہ جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔
جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی مجھے رستہ دکھاتا ہے
جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی میری رہبری فرماتا ہے
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 78) {الَّذِيْ خَلَقَنِيْ فَهُوَ يَهْدِيْنِ: ” يَهْدِيْنِ “} اصل میں {”يَهْدِيْنِيْ“} ہے، آیات کے آخری حروف کی موافقت کے لیے یاء حذف کر دی گئی ہے، نون کا کسرہ اس کی دلیل ہے۔ آئندہ آیات کے اندر {” يَسْقِيْنِ “، ” يَشْفِيْنِ “} اور {” يُحْيِيْنِ “} میں بھی یاء محذوف ہے۔ یہاں سے ابراہیم علیہ السلام نے رب العالمین کی وہ صفات بیان کی ہیں جن کی وجہ سے وہ عبادت کا حق دار ہے، یعنی {”رب العالمين“} وہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔ یہاں {” الَّذِيْ خَلَقَنِيْ “} (وہ جس نے مجھے پیدا کیا) کے بعد {” فَهُوَ يَهْدِيْنِ “} (پھر وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے) حصر کے ساتھ ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ پیدا کرنے کا دعویٰ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے متعلق موجود ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق کہا جائے کہ اسی نے مجھے پیدا کیا ہے، جبکہ ہدایت کا دعویٰ بہت سی ہستیوں کے متعلق ہے، اس لیے فرمایا کہ پھر وہی مجھے ہدایت دیتا ہے، اور کوئی نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تم مانتے ہو کہ اس نے پیدا کیا تو مانو کہ ہدایت بھی وہی دیتا ہے۔ {” الَّذِيْ خَلَقَنِيْ “} (جس نے مجھے پیدا کیا) ماضی کے ساتھ ہے، کیونکہ پیدا تو وہ کر چکا، جبکہ {” فَهُوَ يَهْدِيْنِ “} (پھر وہ مجھے راستہ دکھاتا ہے) مضارع ہے، کیونکہ ہدایت کی ضرورت ہر ہر لمحے میں ہے اور وہ ہر لمحے مجھے ہدایت دیتا ہے۔ پیدائش کے بعد سب سے زیادہ اہم ہدایت ہے، اس لیے ان دونوں کا ذکر سب سے پہلے فرمایا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
78-1یعنی دین اور دنیا کے مصالح اور منافع کی طرف۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
78۔ جس نے مجھے پیدا کیا، وہی میری رہنمائی [54] کرتا ہے۔
[54] ان چار آیات میں حضرت ابراہیمؑ نے اللہ تعالیٰ کی ان صفات کا ذکر کیا۔ جن کا تعلق حضرت ابراہیمؑ کی ذات سے ہی نہیں بلکہ ہر انسان سے تعلق ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی یہی وہ صفات ہیں جن کی بنا پر ہر انسان کو صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کرنا چاہئے۔ پہلی صفت یہ ہے کہ اسی نے مجھے پیدا کیا اور وجود بخشا۔ اللہ تعالیٰ کی یہ صفت ایسی ہے جس کا کسی بھی دور کے مشرکوں نے کبھی انکار نہیں کیا۔ یعنی جب میری تخلیق میں کسی دوسری ہستی کا کچھ حصہ نہیں۔ تو میری عبادت میں کوئی دوسرا کیسے حصہ دار بن سکتا ہے؟ دوسری صفت یہ ہے کہ اللہ نے مجھے پیدا کر کے تنہا نہیں چھوڑ دیا۔ بلکہ ہر ہر مقام پر میری رہنمائی بھی کرتا ہے۔ اس سے مراد فطری رہنمائی بھی ہے جو ہر جاندار کو مہیا ہوتی ہے۔ مثلاً جب پیدا ہوتا ہے تو اپنی خوراک حاصل کرنے کے لئے ماں کی چھاتیوں کی طرف لپکتا ہے۔ پھر اللہ نے ہی اسے دودھ پینے کا طریقہ بھی بتلا دیا۔ غرض موقع و محل کے لحاظ سے اللہ ہر ہر مقام پر ہر جاندار کی رہنمائی اور دست گیری کرتا ہے اور انسانوں کی اخروی فلاح کے لئے وحی کے ذریعے رہنمائی فرماتا ہے اور اس ہمہ گیر قسم کی رہنمائی میں کسی دوسری ہستی کا کچھ بھی تعلق نہیں ہے۔ لہٰذا میری عبادت میں اللہ کے علاوہ دوسرا کوئی کیسے شریک بن سکتا ہے۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
خلیل اللہ کی تعریف ٭٭
حضرت خلیل اللہ علیہ السلام اپنے رب کی صفتیں بیان فرماتے ہیں کہ ”میں تو ان اوصاف والے رب کا ہی عابد ہوں۔ اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہیں کرونگا۔ پہلا وصف یہ کہ وہ میرا خالق ہے اسی نے اندازہ مقرر کیا ہے اور وہی مخلوقات کی اس کی طرف رہبری کرتا ہے۔ دوسرا وصف یہ کہ وہ ہادی حقیقی ہے جسے چاہتا ہے اپنی راہ مستقیم پر چلاتا ہے جسے چاہتا ہے اسے غلط راہ پر لگا دیتا ہے۔ تیسر وصف میرے رب کا یہ ہے کہ وہ رازق ہے آسمان و زمین کے تمام اسباب اسی نے مہیا کئے ہیں۔ بادلوں کا اٹھانا پھیلانا ان سے بارش کا برسانا اس سے زمین کو زندہ کرنا پھر پیداوار اگانا اسی کا کام ہے۔ وہی میٹھا اور پیاس بجھانے والا پانی ہمیں دیتا ہے اور اپنی مخلوق کو بھی غرض کھلانے پلانے والا ہی ہے۔ ساتھ ہی بیمار تندرستی بھی اسی کے ہاتھ ہے۔“
لیکن خلیل اللہ علیہ السلام کا کمال ادب دیکھئیے کہ بیماری کی نسبت تو اپنی طرف کی اور شفاء کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے۔ گو بیماری بھی اس قضاء و قدر ہے اور اسی کی بنائی ہوئی چیز ہے۔
یہی لطافت سورۃ فاتحہ کی دعا میں بھی ہے کہ انعام وہدایت کی اسناد تو اللہ عالم کی طرف کی ہے اور غضب کے فاعل کو حزف کر دیا ہے اور ضلالت بندے کی طرف منسوب کر دی ہے۔
سورۃ الجن میں جنات کا قول بھی ملاحظہ ہوجہاں انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ زمین والی مخلوق کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے ساتھ ان کے رب نے بھلائی کا ارادہ کیا ہے؟ یہاں بھی بھلائی کی نسبت رب کی طرف کی گئی اور برائی کے ارادے میں نسبت ظاہر نہیں کی گئی۔
اسی طرح کی آیت ہے کہ ’ جب میں بیمار پڑتا ہوں تو میری شفاء پر بجز اس اللہ کے اور کوئی قادر نہیں ‘۔ دوا میں تاثیر پیدا کرنا بھی اسی کے بس کی چیز ہے۔
موت و حیات پر قادر بھی وہی ہے۔ ابتداء اسی کے ساتھ ہے اسی نے پہلی پیدائش کی ہے۔ وہی دوبارہ لوٹائے گا۔ دنیا اور آخرت میں گناہوں کی بخشش پر بھی وہی قادر ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، غفور ورحیم وہی ہے۔
لیکن خلیل اللہ علیہ السلام کا کمال ادب دیکھئیے کہ بیماری کی نسبت تو اپنی طرف کی اور شفاء کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے۔ گو بیماری بھی اس قضاء و قدر ہے اور اسی کی بنائی ہوئی چیز ہے۔
یہی لطافت سورۃ فاتحہ کی دعا میں بھی ہے کہ انعام وہدایت کی اسناد تو اللہ عالم کی طرف کی ہے اور غضب کے فاعل کو حزف کر دیا ہے اور ضلالت بندے کی طرف منسوب کر دی ہے۔
سورۃ الجن میں جنات کا قول بھی ملاحظہ ہوجہاں انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ زمین والی مخلوق کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے ساتھ ان کے رب نے بھلائی کا ارادہ کیا ہے؟ یہاں بھی بھلائی کی نسبت رب کی طرف کی گئی اور برائی کے ارادے میں نسبت ظاہر نہیں کی گئی۔
اسی طرح کی آیت ہے کہ ’ جب میں بیمار پڑتا ہوں تو میری شفاء پر بجز اس اللہ کے اور کوئی قادر نہیں ‘۔ دوا میں تاثیر پیدا کرنا بھی اسی کے بس کی چیز ہے۔
موت و حیات پر قادر بھی وہی ہے۔ ابتداء اسی کے ساتھ ہے اسی نے پہلی پیدائش کی ہے۔ وہی دوبارہ لوٹائے گا۔ دنیا اور آخرت میں گناہوں کی بخشش پر بھی وہی قادر ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، غفور ورحیم وہی ہے۔