ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 77

فَاِنَّہُمۡ عَدُوٌّ لِّیۡۤ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۷۷﴾
سو بلاشبہ وہ میرے دشمن ہیں، سوائے رب العالمین کے۔
وہ میرے دشمن ہیں۔ مگر خدائے رب العالمین (میرا دوست ہے)
بجز سچے اللہ تعالیٰ کے جو تمام جہان کا پالنہار ہے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 77) ➊ {فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّيْۤ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ: عَدُوٌّ فَعُوْلٌ} کے وزن پر ہے، واحد، جمع، مذکر اور مؤنث سب کے لیے یکساں استعمال ہوتا ہے، اس لیے { فَاِنَّهُمْ } میں جمع کی خبر ہونے کے باوجود واحد آیا ہے۔ یعنی تم اور تمھارے قدیم ترین آبا و اجداد جن چیزوں کی عبادت کرتے رہے ہیں وہ سب چیزیں میری دشمن ہیں۔ ہاں، اگر ان میں سے کوئی {رب العالمين} کی بھی عبادت کرتا رہا ہے، تو صرف {رب العالمين} میرا دوست ہے۔
➋ یہاں ایک سوال ہے کہ بتوں کے دشمن تو ابراہیم علیہ السلام تھے، بتوں نے ان سے کیا دشمنی کرنا تھی؟ تو یہاں یہ کہنے کے بجائے کہ میں ان کا دشمن ہوں، یہ کیوں فرمایا کہ وہ میرے دشمن ہیں؟ اس کے دو جواب ہیں، ایک یہ کہ ابراہیم علیہ السلام انھیں بتانا یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا تم جن کی عبادت کرتے ہو، جتنی مرضی ان سے محبت کر لو یا ان کی عبادت کر لو، قیامت کے دن وہ تمھارے دشمن بن جائیں گے، ایک اللہ عز و جل کی ذات پاک ہے کہ وہ اپنی عبادت کرنے والوں کی دوست رہے گی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗۤ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ (5) وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِيْنَ [الأحقاف: ۵، ۶]اور اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو اللہ کے سوا انھیں پکارتا ہے جو قیامت کے دن تک اس کی دعا قبول نہیں کریں گے اور وہ ان کے پکارنے سے بے خبر ہیں۔ اور جب سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت سے منکر ہوں گے۔ سورۂ بقرہ (۱۶۵، ۱۶۶) اور سورۂ مریم (۸۱، ۸۲) میں بھی یہی بات بیان ہوئی ہے۔ مگر ابراہیم علیہ السلام نے یہ کہنے کے بجائے کہ تمھارے معبود تمھارے دشمن ہوں گے یہ فرمایا کہ تمھارے یہ معبود (اگر میں ان کی عبادت کروں گا تو) میرے دشمن ہوں گے۔ اس میں انھوں نے دعوت میں حکمت اور دانائی کو محفوظ رکھا ہے کہ مخاطب سوچے کہ جس طرح ابراہیم علیہ السلام کو اپنی فکر ہے کہ بتوں کی عبادت کی صورت میں انھیں ان کی دشمنی کے علاوہ کچھ حاصل نہ ہو گا، اسی طرح مجھے بھی اپنی فکر کرنی چاہیے۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ { عَدُوٌّ } (دشمن) اسی کو نہیں کہتے جسے آپ سے دشمنی ہو، اسے بھی دشمن کہا جاتا ہے جس سے آپ کو دشمنی ہو۔ جس سے اپنی شدید دشمنی کا اظہار کرنا ہو اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ میرا دشمن ہے اور جس سے شدید محبت کا اظہار کرنا ہو اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ میرا دوست ہے۔ مرزا غالب نے کہا ہے:
یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں
عدو کے ہو لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو
گویا ابراہیم علیہ السلام نے اپنی شدید عداوت کے اظہار کے لیے انھیں اپنا دشمن اور رب العالمین کو اپنا دوست قرار دیا ہے۔
➌ ابراہیم علیہ السلام نے ان الفاظ میں بتوں سے اپنی دشمنی کا جو اظہار کیا ہے دوسری جگہ اس کا اظہار ان الفاظ میں ہوا ہے: «{وَ تَاللّٰهِ لَاَكِيْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِيْنَ [الأنبیاء: ۵۷] اور اللہ کی قسم! میں ضرور ہی تمھارے بتوں کی خفیہ تدبیر کروں گا، اس کے بعد کہ تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔ پھر ابراہیم علیہ السلام نے اس دشمنی کا عملی مظاہرہ بھی بتوں کو توڑ کر فرمایا۔ ان الفاظ میں اس بات کا بھی اظہار ہے کہ میں تمھارے بتوں سے ہرگز نہیں ڈرتا، وہ میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتے، میرا ان کے ساتھ اور تمھارے ساتھ تعلق دشمنی کا ہے۔ (دیکھیے ممتحنہ: ۴۔ انعام: ۸۰، ۸۱) اللہ تعالیٰ کے دوسرے جلیل القدر پیغمبروں نے بھی کفار اور ان کے معبودوں کے متعلق صاف اعلان کیا کہ وہ ان کے خلاف جو کر سکتے ہیں انھیں ان کی کوئی پروا ہے نہ ان سے کوئی خوف۔ نوح علیہ السلام کے متعلق دیکھیے سورۂ یونس (۷۱) اور ہود علیہ السلام کے متعلق دیکھیے سورۂ ہود (۵۵، ۵۶)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

76-1اس لئے کہ تم سب اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرنے والے ہو۔ بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جن کی تم اور تمہارے باپ دادا عبادت کرتے رہے ہیں، وہ سب معبود میرے دشمن ہیں یعنی ان سے بیزار ہوں۔ 77-2یعنی وہ دشمن نہیں، بلکہ وہ تو دنیا و آخرت میں میرا ولی اور دوست ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

77۔ یہ تو میرے دشمن [52] ہیں (جو جہنم میں لے جائیں گے) بجز رب العالمین [53] کے
[52] سیدنا ابراہیم کی بتوں سے دشمنی :۔
حضرت ابراہیمؑ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ بت تمہارے دشمن ہیں بلکہ یوں فرمایا کہ یہ میرے دشمن ہیں۔ تاکہ قوم کے لوگ چڑ نہ جائیں اور ضد بازی پر نہ اتر آئیں۔ اور ان کے دشمن ہونے کا ذکر سورۃ مریم کی آیت نمبر 82 میں موجود ہے کہ جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مشرکوں کو اور ان کے معبودوں کو آمنے سامنے لا حاضر کرے گا تو یہی معبود خواہ وہ جاندار ہوں یا بے جان، اپنے عبادت کرنے والوں کے دشمن بن جائیں گے اور کہیں گے کہ احمقو! تمہیں ہم نے کب کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر ہماری عبادت کیا کرو۔ یہ تو آخرت میں دشمنی ہوئی اور آج یہ میرے دشمن ہیں۔ لہٰذا یہ میرا جو کچھ بگاڑ سکتے ہیں میں حاضر ہوں، میں دیکھوں گا کہ میرا یہ کیا نقصان کر سکتے ہیں اور ان کے دشمن ہونے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ میں بھی ان کا دشمن ہوں۔ یعنی جہاں تک مجھ سے بن پڑا میں بھی ان سے دو دو ہاتھ کروں گا۔ چنانچہ حضرت ابراہیمؑ نے ان معبودوں کے ساتھ دو دو ہاتھ کئے بھی تھے۔ جس کا ذکر سورۃ انبیاء کی آیت نمبر 57، 58 میں گزر چلا ہے۔
[53] میں اللہ رب العالمین کے سوا کسی کو بھی معبود تسلیم نہیں کرتا۔ کیونکہ وہی ساری کائنات کا خالق ہے، مالک ہے، ان کی تربیت کرنے والا اور ان پر کنٹرول اور ان کی نگہداشت کرنے والا ہے اور مخلوق اور مملوک کے لئے یہی سزاوار ہے کہ وہ اپنے خالق و مالک کے علاوہ کسی دوسرے کی غلامی نہ کرے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔