(آیت 76،75) {قَالَاَفَرَءَيْتُمْمَّاكُنْتُمْتَعْبُدُوْنَ …: ”اٰبَآؤُكُمُالْاَقْدَمُوْنَ“} کے الفاظ سے ابراہیم علیہ السلام یہ باور کروا رہے ہیں کہ کسی دین کے حق ہونے کے لیے بس یہ دلیل کافی نہیں کہ وہ قدیم آبا و اجداد کے وقت سے چلا آ رہا ہے۔ دنیا کے کسی بھی کام میں پہلے لوگوں کی غلطی ثابت ہو جائے تو اسے فوراً چھوڑ دیتے ہو، تو کیا دین ہی اتنا بے حیثیت ہے کہ غلط جان کر بھی نسلوں کی نسلیں آنکھیں بند کرکے اس پر چلتی جائیں اور مکھی پر مکھی مارتی جائیں؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
75-1افرائیتم کے معنی ہیں فھل أبصٓرتم وتفکرتم کیا تم نے غور و فکر کیا؟
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
75۔ ابراہیم نے کہا: ”بھلا دیکھو تو جن کو تم پوجتے ہو
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔