وَ اتۡلُ عَلَیۡہِمۡ نَبَاَ اِبۡرٰہِیۡمَ ﴿ۘ۶۹﴾
اور ان پر ابراہیم کی خبر پڑھ۔
اور ان کو ابراہیم کا حال پڑھ کر سنا دو
انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنادو
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 69) {وَ اتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ اِبْرٰهِيْمَ:} سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شدت غم کا ذکر فرمایا، جو آپ کو اپنی قوم کے ایمان نہ لانے پر لاحق ہوئی تھی۔ پھر موسیٰ علیہ السلام کا بیان فرمایا، تاکہ آپ کو تسلی ہو اور آپ کو یاد رہے کہ نہ آپ پہلے رسول ہیں اور نہ ہی آپ کی قوم جھٹلانے میں پہلی ہے، بلکہ موسیٰ علیہ السلام کے عظیم الشان معجزے لے کر آنے کے باوجود قبطیوں کے بہت ہی کم لوگ ان پر ایمان لائے۔ اس کے بعد ابو الانبیاء ابراہیم علیہ السلام کا ذکر فرمایا جو خلیل اللہ کے بلند منصب پر فائز تھے، تاکہ آپ کے سامنے وہ شخصیت بھی رہے جس کا غم بھی بے انتہا تھا، کیونکہ وہ اپنے باپ اور اپنی قوم کو آگ میں جاتے ہوئے دیکھتا تھا، مگر انھیں اس سے بچا نہ سکتا تھا۔ اس نے انھیں ہر طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی، حتیٰ کہ دلیل کے ساتھ انھیں بالکل لاجواب کر دیا، مگر انھوں نے نہیں مانا، بلکہ آباء کی تقلید ہی پر جمے رہے۔ فرمایا: ”اور ان (مشرکین مکہ) کے سامنے ابراہیم علیہ السلام کی عظیم خبر بھی پڑھ۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
69۔ اور انھیں ابراہیم کا قصہ [48] (بھی) سنائیے
[48] حضرت ابراہیمؑ کا قصہ قریش مکہ سے گہری مناسب رکھتا ہے۔ یہ لوگ اپنے آپ کو حضرت ابراہیمؑ کا پیروکار ہونے کا دعویٰ رکھتے تھے۔ حضرت ابراہیمؑ وہ ہستی ہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی شرک کے خلاف جہاد میں گزاری اور اس راہ میں آنے والی ہر مصیبت کو بڑی خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ جبکہ قریش مکہ اپنے اس اتباع ابراہیمی کے دعویٰ کے باوجود سر سے پاؤں تک شرک میں ڈوبے ہوئے تھے۔ انھیں یہ اعتراف بھی تھا کہ حضرت ابراہیمؑ خالصتاً توحید پرست اور شرک سے سخت بیزار تھے اور یہ بھی اعتراف تھا کہ عرب میں شرکیہ رسوم حضرت ابراہیمؑ کی وفات کے صدیوں بعد رائج ہوئیں۔ سیدنا ابراہیمؑ کا خانگی ماحول اور باپ کو نصیحت:۔
حضرت ابراہیمؑ کی قوم بھی سر تا پا شرک میں مبتلا تھی۔ دوسروں کا کیا ذکر آپ کا باپ آزر نمرود کے دربار میں شاہی مہنت تھا۔ وہ خو بت تراش بھی تھا اور بت فروش بھی۔ اس کا ذریعہ معاشی بھی بت گری اور بت فروشی تھا۔ اور جاہ و منصب بھی اسے اسی وجہ سے حاصل ہوا۔ ایسے باپ کے گھر اور ایسے ماحول میں حضرت ابراہیم پیدا ہوئے۔ نبوت عطا ہوئی تو سب سے پہلے اپنے باپ کو ہی سمجھانا شروع کیا اور پھر اس کے بعد دوسرے لوگوں کو اپنے آپ اور اپنی قوم سے ان کا پہلا سوال ہی یہ تھا کہ ان پتھر کے بتوں اور مورتیوں میں کیا خصوصیت ہے تو جو تم ان کی پوجا کرتے ہو۔ آخر تم ان کو کیا سمجھ کر ان کی پوجا کرتے ہو اور ان کی نذریں نیازیں دیتے ہو؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ابراہیم علیہ السلام علامت توحیدی پرستی ٭٭
تمام موحدوں کے باپ اللہ کے بندے اور رسول اور خلیل ابراہیم علیہ افضل التحیۃ والتسلیم کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہو رہا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو یہ واقعہ سنا دیں، تاکہ وہ اخلاص توکل اور اللہ واحد کی عبادت اور شرک اور مشرکین سے بیزاری میں آپ علیہ السلام کی اقتداء کریں۔ آپ علیہ السلام اول دن سے اللہ کی توحید پر قائم تھے اور آخر دن تک اسی توحید پر جمے رہے ‘۔ اپنی قوم سے اور اپنے باپ سے فرمایا کہ ”یہ بت پرستی کیا کر رہے ہو“؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو پرانے وقت سے ان بتوں کی مجاوری اور عبادت کرتے چلے آتے ہیں۔
ابراہیم علیہ السلام نے ان کی اس غلطی کو ان پر وضح کر کے ان کی غلط روش بے نقاب کرنے کے لیے ایک بات اور بھی بیان فرمائی کہ تم جو ان سے دعائیں کرتے ہو اور دور نزدیک سے انہیں پکارتے ہو تو کیا یہ تمہاری پکار سنتے ہیں؟ یا جس نفع کے حاصل کرنے کے لیے تم انہیں بلاتے ہو وہ نفع تمہیں وہ پہنچاسکتے ہیں؟ یا اگر تم ان کی عبادت چھوڑ دو تو کیا وہ تمہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں؟ اس کا جواب جو قوم کی جانب سے ملا وہ صاف ظاہر ہے کہ ان کے معبود ان کاموں میں سے کسی کام کو نہیں کر سکتے۔ انہوں نے صاف کہا کہ ہم تو اپنے بڑوں کی وجہ سے بت پرستی پر جمے ہوئے ہیں۔
ابراہیم علیہ السلام نے ان کی اس غلطی کو ان پر وضح کر کے ان کی غلط روش بے نقاب کرنے کے لیے ایک بات اور بھی بیان فرمائی کہ تم جو ان سے دعائیں کرتے ہو اور دور نزدیک سے انہیں پکارتے ہو تو کیا یہ تمہاری پکار سنتے ہیں؟ یا جس نفع کے حاصل کرنے کے لیے تم انہیں بلاتے ہو وہ نفع تمہیں وہ پہنچاسکتے ہیں؟ یا اگر تم ان کی عبادت چھوڑ دو تو کیا وہ تمہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں؟ اس کا جواب جو قوم کی جانب سے ملا وہ صاف ظاہر ہے کہ ان کے معبود ان کاموں میں سے کسی کام کو نہیں کر سکتے۔ انہوں نے صاف کہا کہ ہم تو اپنے بڑوں کی وجہ سے بت پرستی پر جمے ہوئے ہیں۔
اس کے جواب میں خلیل اللہ علیہ السلام نے ان سے اور ان کے معبودان باطلہ سے اپنی برأت اور بیزاری کا اعلان کر دیا۔ صاف فرما دیا کہ ”تم اور تمہارے معبود سے میں بیزار ہوں، جن کی تم اور تمہارے باپ دادا پرستش کرتے رہے۔ ان سب سے میں بیزار ہوں وہ سب میرے دشمن ہیں میں صرف سچے رب العلمین کا پرستار ہوں۔ میں موحد مخلص ہوں۔ جاؤ تم سے اور تمہارے معبودوں سے جو ہو سکے کر لو۔“
نوح نبی علیہ السلام نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا ”تم اور تمہارے سارے معبود مل کر اگر میرا کچھ بگاڑ سکتے ہوں تو کمی نہ کرو۔“
ھود علیہ السلام نے بھی فرمایا تھا ”میں تم سے اور تمہارے اللہ کے سوا باقی معبودوں سے بیزار ہوں تم سب اگر مجھے نقصان پہنچا سکتے ہو تو جاؤ پہنچالو۔ میرا بھروسہ اپنے رب کی ذات پر ہے تمام جاندار اس کے ماتحت ہیں وہ سیدھی راہ والا ہے۔“
اسی طرح خلیل الرحمن علیہ صلوات الرحمن نے فرمایا کہ ”میں تمہارے معبودوں سے بالکل نہیں ڈرتا۔ ڈر تو تمہیں میرے رب سے رکھنا چاہیئے۔ جو سچا ہے۔“ آپ علیہ السلام نے اعلان کر دیا تھا کہ ”جب تک تم ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ مجھ میں تم میں عداوت ہے۔ میں اے باپ تجھ سے اور تیری قوم سے اور تیرے معبودوں سے بری ہوں۔ صرف اپنے رب سے میری آرزو ہے کہ وہ مجھے راہ راست دکھلائے اسی کو یعنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کو انہوں نے کلمہ بنا لیا۔
نوح نبی علیہ السلام نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا ”تم اور تمہارے سارے معبود مل کر اگر میرا کچھ بگاڑ سکتے ہوں تو کمی نہ کرو۔“
ھود علیہ السلام نے بھی فرمایا تھا ”میں تم سے اور تمہارے اللہ کے سوا باقی معبودوں سے بیزار ہوں تم سب اگر مجھے نقصان پہنچا سکتے ہو تو جاؤ پہنچالو۔ میرا بھروسہ اپنے رب کی ذات پر ہے تمام جاندار اس کے ماتحت ہیں وہ سیدھی راہ والا ہے۔“
اسی طرح خلیل الرحمن علیہ صلوات الرحمن نے فرمایا کہ ”میں تمہارے معبودوں سے بالکل نہیں ڈرتا۔ ڈر تو تمہیں میرے رب سے رکھنا چاہیئے۔ جو سچا ہے۔“ آپ علیہ السلام نے اعلان کر دیا تھا کہ ”جب تک تم ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ مجھ میں تم میں عداوت ہے۔ میں اے باپ تجھ سے اور تیری قوم سے اور تیرے معبودوں سے بری ہوں۔ صرف اپنے رب سے میری آرزو ہے کہ وہ مجھے راہ راست دکھلائے اسی کو یعنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کو انہوں نے کلمہ بنا لیا۔