ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 68

وَ اِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ﴿٪۶۸﴾
اور بے شک تیرا رب، یقینا وہی سب پر غالب، بے حد رحم والا ہے۔
اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے
اور بیشک آپ کا رب بڑا ہی غالب اور مہربان ہے؟

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 68) {وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ:} یعنی اپنے دشمنوں سے انتقام لینے والا اور اپنے ماننے والوں پر رحم کرنے والا ہے۔ چنانچہ دیکھو دم بھر میں فرعون کو غرق کر دیا اور بنی اسرائیل کو نجات دلا کر بادشاہ بنا دیا۔ اس میں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کرے گا، اگر ہجرت کے بعد مکہ کے فرعونوں نے آپ کا تعاقب کیا تو ان کا حال بھی مصر کے فرعون جیسا ہو گا اور پھر واقعی اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد فرمائی اور بدر کے میدان میں مکہ کے فرعونوں کو تباہ و برباد کیا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

68۔ اور بلا شبہ تمہارا [47] پروردگار ہی ہر چیز پر غالب اور رحم کرنے والا ہے۔
[47] یعنی ایسی واضح نشانیاں دیکھ کر بھی منکرین حق کم ہی ایمان لاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو سزا دینے کی اللہ پوری قدرت رکھتا ہے لیکن فوراً سزا اس لئے نہیں دیتا کہ وہ رحیم بھی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔