ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 67

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً ؕ وَ مَا کَانَ اَکۡثَرُہُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۶۷﴾
بے شک اس میں یقینا عظیم نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔
بےشک اس (قصے) میں نشانی ہے۔ لیکن یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں
یقیناً اس میں بڑی عبرت ہے اور ان میں کےاکثر لوگ ایمان والے نہیں

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 67) ➊ {اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً:} ایک ہی پانی کے ذریعے سے کسی کو بچا لینے اور کسی کو غرق کر دینے میں یقینا بہت بڑی نشانی ہے کہ اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ قوموں اور سلطنتوں میں انقلاب آتے رہتے ہیں، مگر ایسے حیرت انگیز اور عظیم الشان واقعہ کے ساتھ انقلاب ایک بہت بڑا معجزہ ہے۔
➋ { وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِيْنَ:} اس جگہ { اَكْثَرُهُمْ } سے مراد ان لوگوں میں سے اکثر مراد نہیں جو فرعون کے ساتھ آئے تھے، کیونکہ وہ تو سب غرق ہو گئے اور غرق ہوتے وقت ایمان لائے بھی تو بے سود۔ (دیکھیے یونس: ۹۰، ۹۱) مراد مصر میں فرعون سے تعلق رکھنے والے تمام لوگ ہیں کہ ان کے اکثر ایمان نہیں لائے، بہت کم ایمان لائے۔ جن میں فرعون کے جادو گر، اس کی بیوی آسیہ اور اس کی قوم کے چند لڑکے شامل تھے۔ (دیکھیے یونس: ۸۳) اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی بھی ہے کہ اتنے عظیم الشان معجزے دیکھ کر بھی ان کے اکثر ایمان نہیں لائے تو آپ اپنی قوم کے اکثر لوگوں کے ایمان نہ لانے پر اتنے غمگین کیوں ہیں؟ یہاں مفسرین نے موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے والوں میں ایک خاتون کا ذکر کیا ہے، جس کے بتانے پر بنی اسرائیل یوسف علیہ السلام کی میّت کو ان کی قبر سے نکال کر ساتھ لے گئے تھے اور جس نے اس شرط پر موسیٰ علیہ السلام کو اس قبر کی نشان دہی کی تھی کہ وہ اس بات کی ضمانت دیں کہ اسے جنت میں ان کا ساتھ ملے گا۔ حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں، میں نے مفسرین کی دیکھا دیکھی اسے نقل کر دیا ہے، ورنہ اس میں نکارت ہے، یعنی یہ واقعہ صحیح نہیں ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

67-1یعنی اگرچہ اس واقعے میں، جو اللہ کی نصرت و معاونت کا واضح مظہر ہے، بڑی نشانی ہے لیکن اس کے باوجود اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

67۔ اس واقعہ میں بھی ایک نشانی [46] ہے لیکن ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں
[46] فرعون کے قصہ میں سامان عبرت:۔
یعنی اس واقعہ میں ہر طرح کے لوگوں کے لئے نشانی ہے۔ ظالموں کے لئے یہ نشانی ہے کہ وہ اپنے کرتوتوں کی سزا اور اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ کا دست قدرت انھیں ایسے راستوں سے مقام ہلاکت کی طرف کھینچ لاتا ہے جن کا انھیں وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔ لہٰذا اے معاندین قریش تم بھی اس واقعہ سے عبرت حاصل کرو کہ کہیں تمہیں بھی ایسے انجام بد سے دوچار نہ ہونا پڑے اور اس واقعہ میں ایمان لانے والوں کے لئے بھی نشانی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو آزماتا ضرور ہے۔ انھیں تکلیفیں بھی پہنچتی ہیں۔ بالآخر اللہ تعالیٰ مظلوموں کی ہی مدد کرتا ہے اور ظالموں کو تباہ و برباد کر دیتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔