ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 64

وَ اَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِیۡنَ ﴿ۚ۶۴﴾
اور وہیں ہم دوسروں کو قریب لے آئے۔
اور دوسروں کو وہاں ہم نے قریب کردیا
اور ہم نے اسی جگہ دوسروں کو نزدیک ﻻ کھڑا کر دیا

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 64) {وَ اَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِيْنَ: أَزْلَفَ يُزْلِفُ} قریب کرنا۔ { ثَمَّ } وہاں، اس جگہ۔ { الْاٰخَرِيْنَ } دوسرے لوگ یعنی فرعون کی قوم۔ { ثَمَّ } کا مطلب یہ ہے کہ اس عظیم الشان موقع پر ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو مسلمانوں کے قریب پہنچا دیا۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا خاص تصرّف تھا کہ فرعون اور اس کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی، ورنہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ فرعون جیسا مادہ پرست ایسے خوفناک منظر کو دیکھتے ہوئے کیسے سمندر میں داخل ہو گیا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس فعل کو اپنی طرف منسوب کرکے جمع متکلم کے صیغے کے ساتھ فرمایا کہ اس موقع پر ہم انھیں قریب لے آئے، ورنہ وہ کہاں قریب آنے والے تھے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

64-1اس سے مراد فرعون اور اس کا لشکر ہے یعنی ہم نے دوسروں کو سمندر کے قریب کردیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

64۔ اور اسی جگہ ہم دوسرے گروہ کو بھی قریب لے آئے [45]۔
[45] اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر بنی اسرائیل کے لئے نجات کی راہ پیدا کر دی۔ اور بنی اسرائیل اس میں سے گزر کر بخیر و عافیت اس بحیرہ کے دوسرے کنارے پر پہنچ گئے اس وقت فرعون کا لشکر انہی راستوں سے گزر کر سمندر پاکر کرنے کی تیاریاں کر رہا تھا۔ شاید اس وقت موسیٰؑ کو یہ خیال آیا ہو تو اب دوبارہ سمندر پر اپنا عصا ماریں۔ تاکہ پانی پھر سے آپس میں مل جائے اور فرعون کا لشکر ان تک نہ پہنچنے پائے لیکن اسی وقت اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ کو وحی کی کہ ﴿وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا [44: 24] یعنی سمندر کو اسی حال میں پہاڑوں کی طرح کھڑا چھوڑ دو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مرضی صرف یہی نہیں تھی کہ بنی اسرائیل ان فرعونیوں سے نجات پا جائیں بلکہ یہ بھی تھی کہ اس ظالم قوم کو سمندر میں غرق کر کے صفحہ ہستی سے نیست و نابود کر دیا جائے۔
فرعون اور اس کے لشکر کی غرقابی :۔
فرعون اور آل فرعون اگر بنی اسرائیل کا تعاقب نہ کرتے یا سمندر سے ہی واپس چلے جاتے تو ان کا صرف اتنا ہی نقصان ہوتا کہ ایک غلام قوم ہاتھ سے نکل گئی۔ مگر اللہ کی مشیت پوری ہو کے رہتی ہے۔ ان کی ہلاکت ہی انھیں مقام ہلاکت پر کھینچ لائی تھی۔ پھر جب انہوں نے سمندر میں کھلے راستے دیکھے۔ پھر بھی فرعون کو یہ خیال نہ آیا کہ ممکن ہے کہ سمندر میں اس طرح راستہ بن جانا ایک خرق عادات امر اور موسیٰؑ کا معجزہ ہو۔ اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ فوراً اپنے گھوڑے انہی راستوں پر ڈال دیئے۔ اور جب فرعون کا پورا لشکر سمندر کی زد میں آگیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے پانی کو حکم دیا کہ وہ اپنی طبعی حالت پر واپس آجائے اور آپس میں مل جائے۔ چنانچہ خدائی کے بلند و بانگ دعویٰ کرنے والا فرعون اپنے تمام اہلیان سلطنت اور لاؤ لشکر سمیت اس سمندر میں غرق ہو گیا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔