(آیت 62) {قَالَكَلَّااِنَّمَعِيَرَبِّيْسَيَهْدِيْنِ:} فرمایا، ایسا ہر گز نہیں ہو گا، بلکہ میرا رب میرے ساتھ ہے، اس نے فرعون کی طرف روانہ کرتے ہوئے خود مجھ سے وعدہ کیا ہے: «{ اِنَّامَعَكُمْمُّسْتَمِعُوْنَ }»[الشعراء: ۱۵]”بے شک ہم تمھارے ساتھ خوب سننے والے ہیں۔“ اسی کے حکم سے میں یہاں آیا ہوں، یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اب وہ مجھے بے یارو مددگار چھوڑ دے، وہ مجھے ضرور ان سے نجات کا راستہ بتائے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
62-1حضرت موسیٰ ؑ نے تسلی دی کہ تمہارا اندیشہ صحیح نہیں، اب دوبارہ تم فرعون کی گرفت میں نہیں جاؤ گے۔ میرا رب یقینا نجات کے راستے کی نشاندہی فرمائے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
62۔ موسیٰ نے کہا: ”ایسا ہرگز نہ ہو گا۔ میرا پروردگار میرے ساتھ ہے وہ جلد ہی میری رہنمائی [43] کر دے گا“
[43] لیکن موسیٰؑ پر اس صورت حال کا کچھ بھی اثر نہ ہوا۔ انھیں اس بات کا یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے جو فتح و نصرت کے وعدے کر رکھے ہیں وہ یقیناً پورے ہوں گے۔ اور اس مصیبت سے نجات کے لئے بھی اللہ ضرور کوئی راہ نکال دے گا۔ لہٰذا انہوں نے گھبرائے ہوئے بنی اسرائیل کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ فرعون تمہارا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مدد ہمارے شامل حال ہے وہ ان حالات میں بھی ضرور ہماری رہنمائی فرمائے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔