ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 61

فَلَمَّا تَرَآءَ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰبُ مُوۡسٰۤی اِنَّا لَمُدۡرَکُوۡنَ ﴿ۚ۶۱﴾
پھر جب دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا بے شک ہم یقینا پکڑے جانے والے ہیں۔
جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے ساتھی کہنے لگے کہ ہم تو پکڑ لئے گئے
پس جب دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا، تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا، ہم تو یقیناً پکڑ لیے گئے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 61) {فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ …:تَرَاءٰی يَتَرَاءٰي تَرَائُيًا} (تفاعل) ایک دوسرے کو دیکھنا۔ جب دونوں جماعتیں ایک دوسرے کو نظر آنے لگیں تو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی کہنے لگے کہ ہم تو یقینا پکڑے جانے والے ہیں۔ {إِنَّ} اور {لام تاكيد} سے ان کے شدید خوف کا اظہار ہو رہا ہے کہ اب ہر صورت یہ لوگ ہمیں مار ڈالیں گے، یا پھر غلام بنا کر ساتھ لے جائیں گے۔ اس سے پہلے مصر میں بھی انھوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا: «{ اُوْذِيْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِيَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا [الأعراف: ۱۲۹] ہمیں اس سے پہلے ایذا دی گئی کہ تو ہمارے پاس آئے اور اس کے بعد بھی کہ تو ہمارے پاس آیا۔ اب انھیں فرعون کی صورت میں موت نظر آئی تو انھوں نے یہ بات کہی۔ یہاں {قَالَ بَنُوْ إِسْرَائِيْلَ} کے بجائے { قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى } اس لیے فرمایا کہ ہجرت کرکے آنے والوں میں بنی اسرائیل کے علاوہ مسلمان بھی تھے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

61-1یعنی فرعون کے لشکر کو دیکھتے ہی وہ، گھبرا اٹھے کہ آگے سمندر ہے اور پیچھے فرعون کا لشکر، اب بچاؤ کس طرح ممکن ہے؟ اب دوبارہ وہی فرعون اور اس کی غلامی ہوگی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

61۔ پھر جب دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا تو موسیٰ کے ساتھی [42] چیخ اٹھے کہ ہم تو پکڑے گئے۔
[42] فرعون کی بدحواسی :۔
فرعون کی بدحواسی کا یہ عالم تھا کہ ایک طرف تو وہ بنی اسرائیل کو ایک مٹھی بھر اور کمزور سی جماعت قرار دے رہا تھا دوسری طرف وہ ایک عظیم الشان مسلح لشکر کی تیاری کا حکم دے رہا تھا۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کو یقین تھا کہ بنی اسرائیل محض ایک کمزور سی اور مٹھی بھر جماعت ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مدد بھی ان کے شامل حال ہے۔ لہٰذا اس نے ہر ممکن احتیاط کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایسا لشکر جرار تیار کرنے کا حکم دیا تھا جس کے تیار ہونے میں خواہ مخواہ کچھ عرصہ لگ گیا۔ فرعون کے اس لشکر نے بالآخر بنی اسرائیل کو بحیرہ قلزم کے کنارے پر جا پکڑا۔ اب صورت حال یہ تھی کہ دونوں لشکروں میں صرف اتنا فاصلہ رہ گیا تھا کہ دونوں لشکر ایک دوسرے کو دیکھ سکتے تھے۔ بنی اسرائیل سمندر کے کنارے پر کھڑے تھے۔ پیچھے سے فرعون کا لشکر تیز رفتار گھوڑوں پر سوار ان کی طرف بڑھا چلا آرہا تھا۔ بنی اسرائیل جو فرعون سے پہلے ہی سخت خوف زدہ تھے یہ صورت حال دیکھ کر سخت گھبرا گئے۔ آگے سمندر تھا پیچھے فرعون کا لشکر، دونوں طرف موت ہی موت کھڑی نظر آ رہی تھی۔ لہٰذا ان کی زبان سے بے ساختہ یہ الفاظ نکل گئے، موسیٰ اب تو ہم مارے گئے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

فرعون اور اس کا لشکر غرق دریا ہو گیا ٭٭
فرعون اپنے تمام لاؤ لشکر اور تمام رعایا کو مصر اور بیرون کے لوگوں کو اپنے والوں کو اور اپنی قوم کے لوگوں کو لے کر بڑ طمطراق اور ٹھاٹھ سے بنی اسرائیل کو تہس نہس کرنے کے ارادے سے چلا بعض کہتے ہیں ان کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کر گئی تھی۔ ان میں سے ایک لاکھ تو صرف سیاہ رنگ کے گھوڑوں پر سوار تھے لیکن یہ خبر اہل کتاب کی ہے جو تامل طلب ہے۔
کعب رضی اللہ عنہ سے تو مروی ہے کہ آٹھ لاکھ تو ایسے گھوڑوں پر سوار تھے۔ ہمارا تو خیال ہے کہ یہ سب بنی اسرائیل کی مبالغہ آمیز روایتیں ہیں۔ اتنا تو قرآن سے ثابت ہے کہ فرعون اپنی کل جماعت کو لے کر چلا مگر قرآن نے ان کی تعداد بیان نہیں فرمائی نہ اس کو علم ہمیں کچھ نفع دینے والا ہے طلوع آفتاب کے وقت یہ ان کے پاس پہنچ گیا۔ کافروں نے مومنوں اور مومنوں نے کافروں کو دیکھ لیا۔ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کے منہ سے بےساختہ نکل گیا کہ موسیٰ علیہ السلام اب بتاؤ کیا کریں۔ پکڑ لیے گئے آگے بحر قلزم ہے پیچھے فرعون کاٹڈی دل لشکر ہے۔ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔
ظاہر ہے کہ نبی اور غیر نبی کا ایمان یکساں نہیں ہوتا موسیٰ علیہ السلام نہایت ٹھنڈے دل سے جواب دیتے ہیں کہ گھبراؤ نہیں تمہیں کوئی ایذاء نہیں پہنچا سکتی میں اپنی رائے سے تمہیں لے کر نہیں نکلا بلکہ احکم الحکمین کے حکم سے تمہیں لے کر چلا ہوں۔ وہ وعدہ خلاف نہیں ہے۔‏‏‏‏
ان کے اگلے حصے پر ہارون علیہ السلام تھے انہی کے ساتھ یوشع بن نون تھے یہ آل فرعون کا مومن شخص تھا۔ اور موسیٰ علیہ السلام لشکر کے اگلے حصے میں تھے۔ گھبراہٹ کے مارے اور راہ نہ ملنے کی وجہ سے سارے بنو اسرئیل ہکا بکا ہو کر ٹھہر گئے اور اضطراب کے ساتھ جناب کلیم اللہ علیہ السلام سے دریافت فرمانے لگے کہ اسی راہ پر چلنے کا اللہ کا حکم تھا؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ہاں۔‏‏‏‏ اتنی دیر میں تو فرعون کا لشکر سر پر آ پہنچا۔ اسی وقت پروردگار کی وحی آئی کہ ’ اے نبی! اس دریا پر اپنی لکڑی مارو۔ اور پھر میری قدرت کا کرشمہ دیکھو ‘۔ آپ علیہ السلام نے لکڑی ماری جس کے لگتے ہی بحکم اللہ پانی پھٹ گیا اس پریشانی کے وقت موسیٰ علیہ السلام نے جو دعا مانگی تھی۔ وہ ابن ابی حاتم میں ان الفاظ سے مروی ہے «يَا مَنْ كَانَ قَبْل كُلّ شَيْء وَالْمُكَوِّن لِكُلِّ شَيْء وَالْكَائِن بَعْد كُلّ شَيْء اِجْعَلْ لَنَا مَخْرَجًا» یہ دعا موسیٰ علیہ السلام کے منہ سے نکلی ہی تھی کہ اللہ کی وحی آئی کہ ’ دریا پر اپنی لکڑی مارو ‘۔
حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس رات اللہ تعالیٰ نے دریا کی طرف پہلے ہی سے وحی بھیج دی تھی کہ جب میرے پیغمبر موسیٰ علیہ السلام آئیں اور تجھے لکڑی ماریں تو تو ان کی بات سننا اور ماننا پس سمندر میں رات بھر تلاطم رہا اس کی موجیں ادھر ادھر سر ٹکراتی پھیریں کہ نہ معلوم علیہ السلام کب اور کدھر سے آ جائیں اور مجھے لکڑی مار دیں ایسا نہ ہو کہ مجھے خبر نہ لگے اور میں ان کے حکم کی بجا آوری نہ کرسکوں جب بالکل کنارے پہنچ گئے تو آپ علیہ السلام کے ساتھی یوشع بن نون رحمۃ اللہ نے فرمایا اے اللہ کے نبی! اللہ کا آپ کو کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا یہی کہ میں سمندر میں لکڑی ماروں۔‏‏‏‏ انہوں نے کہا پھر دیر کیا ہے؟
چنانچہ آپ علیہ السلام نے لکڑی مار کر فرمایا اللہ کے حکم سے تو پھٹ اور مجھے چلنے کا راستہ دیدے۔ اسی وقت وہ پھٹ گیا راستے بیچ میں صاف نظر آنے لگے اور اس کے آس پاس پانی بطور پہاڑ کے کھڑا ہو گیا۔ اس میں بارہ راستے نکل آئے بنو اسرائیل کے قبیلے بھی بارہ ہی تھے۔ پھر قدرت الٰہی سے ہر دو فریق کے درمیان جو پہاڑ حائل تھا اسمیں طاق سے بن گئے تاکہ ہر ایک دوسرے کو سلامت روی سے آتا ہوا دیکھے۔ پانی مثل دیواروں کے ہو گیا۔ اور ہوا کو حکم ہوا کہ اس نے درمیان سے پانی کو اور زمین کو خشک کر کے راستے صاف کر دیئے پس اس خشک راستے سے آپ مع اپنی قوم کے بے کھٹکے جانے لگے۔
پھر فرعونیوں کو اللہ تعالیٰ نے دریا سے قریب کر دیا پھر موسیٰ علیہ السلام اور بنواسرائیل اور سب کو تو نجات مل گئی۔ اور باقی سب کافروں کو ہم نے ڈبودیا نہ ان میں سے کوئی بچا۔ نہ ان میں سے کوئی ڈوبا۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں فرعون کو جب بنو اسرائل کے بھاگ جانے کی خبر ملی تو اس نے ایک بکری ذبح کی اور کہا اس کی کھال اترنے سے پہلے چھ لاکھ کا لشکرجمع ہو جانا چاہیئے۔ ادھر موسیٰ علیہ السلام بھاگم بھاگ دریا کے کنارے جب پہنچ گئے تو دریا سے فرمانے لگے تو پھٹ جا کہیں ہٹ جا اور ہمیں جگہ دیدے اس نے کہا یہ کیا تکبر کی باتیں کر رہے ہو؟ کیا میں اس سے پہلے بھی کبھی پھٹا ہوں؟ اور ہٹ کر کسی انسان کو جگہ دی ہے جو تجھے دوں گا؟ آپ علیہ السلام کے ساتھ جو بزرگ شخص تھے انہوں نے کہا اے نبی علیہ السلام کیا یہی راستہ اور یہی جگہ اللہ کی بتلائی ہوئی ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ہاں یہی انہوں نے کہا پھر نہ تو آپ علیہ السلام جھوٹے ہیں نہ آپ علیہ السلام سے غلط فرمایا گیا ہے۔ آپ علیہ السلام نے دوبارہ یہی کہا لیکن پھر بھی کچھ نہ ہوا۔ اس بزرگ شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا اسی وقت وحی اتری کہ ’ سمندر پر اپنی لکڑی مار ‘۔ اب آپ علیہ السلام کو خیال آیا اور لکڑی ماری لکڑی لگتے ہی سمندر نے راستہ دے دیا۔ بارہ راہیں ظاہر ہو گئیں ہر فرقہ اپنے راستے کو پہچان گیا اور اپنی راہ پر چل دیا اور ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے بہ اطمینان تمام چل دئیے۔ موسیٰ علیہ السلام تو بنی اسرائیل کو لے کر پار نکل گئے اور فرعونی ان کے تعاقب میں سمندر میں آ گئے کہ اللہ کے حکم سے سمندر کا پانی جیسا تھا ویسا ہو گیا اور سب کو ڈبودیا۔ جب سب سے آخری بنی اسرائیلی نکلا اور سب سے آخری قبطی سمندر میں آ گیا اسی وقت جناب باری تعالیٰ کے حکم سے سمندر کا پانی ایک ہو گیا اور سارے کے سارے قبطی ایک ایک کر کے ڈبودیئے گئے۔‏‏‏‏
’ اس میں بڑی عبرتناک نشانی ہے کہ کس طرح گنہگار برباد ہوتے ہیں اور نیک کردار شاد ہوتے ہیں لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان جیسی دولت سے محروم ہیں۔ بیشک تیرا رب عزیز ورحیم ہے ‘۔