(آیت 5) ➊ { وَمَايَاْتِيْهِمْمِّنْذِكْرٍمِّنَالرَّحْمٰنِ …:} سورۂ انبیاء کی آیت (۴۲) میں ہے: «{ عَنْذِكْرِرَبِّهِمْ }» اور یہاں فرمایا: «{ مِنْذِكْرٍمِّنَالرَّحْمٰنِ }» اس کی مناسبت یہ ہے کہ آپ جن کے غم میں پڑے ہیں ان کی حالت یہ ہے کہ رحمان اپنی رحمت سے جب ان کی بھلائی کے لیے کوئی نصیحت بھیجتا ہے، تو وہ اس سے منہ موڑنے والے ہوتے ہیں۔ {”مُحْدَثٍ“} کا مطلب یہ ہے کہ ان کا یہ معاملہ اس نصیحت کے ساتھ ہے جو بار بار نئی سے نئی آتی رہتی ہے، اگر ایک آدھ دفعہ ہی آتی تو ان کا کیا حال ہوتا، اس لیے ان کے غم میں اپنے آپ کو ہلاک مت کریں۔ ➋ { ”إِلَّاأَعْرَضُوْاعَنْهُ“} (مگر اس سے منہ موڑ لیتے ہیں) کے بجائے فرمایا: «{ اِلَّاكَانُوْاعَنْهُمُعْرِضِيْنَ}»”مگر وہ اس سے منہ موڑنے والے ہوتے ہیں“ اس میں ان کے مسلسل اعراض کا بیان ہے۔ ➌ قرآن مجید کے محدث ہونے کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ انبیاء کی آیت (۲) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
5۔ ان کے پاس رحمن کی طرف سے جو بھی کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اس سے یہ منہ موڑ [4] لیتے ہیں
[4] ان لوگوں کو راہ راست سمجھانے کا طریقہ یہی ہے کہ ان کی توجہ اللہ تعالیٰ کی آیات تکوینیہ (وہ نشانیاں جو کائنات میں ہر سو بکھری ہوئی ہیں) اور آیات تنزیلیہ (وحی کی صورت میں نازل ہونے والی آیات یا وہ آیات جن میں معاندین حق پر عذاب نازل ہونے کا ذکر ہے) کی طرف دلائی جائے۔ مگر یہ کچھ ایسے بد بخت واقع ہوئے ہیں کہ اللہ کی طرف سے جو بھی آیات یا معجزہ وغیرہ نازل ہوتا ہے تو بجائے اس کے یہ اس میں کچھ غور و فکر کریں اور توجہ دیں یہ الٹا اس سے منہ موڑ جاتے ہیں اور اللہ کی آیات کا مذاق اڑانا شروع کر دیتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں