ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 46

فَاُلۡقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیۡنَ ﴿ۙ۴۶﴾
تو جادوگر نیچے گرا دیے گئے، اس حال میں کہ سجدہ کرنے والے تھے۔
تب جادوگر سجدے میں گر پڑے
یہ دیکھتے ہی دیکھتے جادوگر بے اختیار سجدے میں گر گئے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 45 میں تا آیت 47 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

46۔ یہ دیکھ کر جادوگر بے اختیار سجدہ [36] میں گر پڑے
[36] جادوگر کیوں ایمان لائے؟
فرعون کے جے پکارنے والے جادوگروں نے جب دیکھا کہ موسیٰؑ کے عصا سے بنا ہوا سانپ ان کے سانپ کو ہڑپ کر رہا ہے تو انہیں یقین ہو گیا تھا کہ یہ جادو کے فن سے ماورا کوئی اور چیز ہے۔ وہ کوئی معمولی قسم کے جادوگر نہ تھے۔ بلکہ ملک بھر کے چوٹی کے ماہر اور نامور جادوگر تھے۔ لہٰذا جب ان کے بنائے ہوئے سب سانپ میدان مقابلہ سے ختم ہو گئے تو انہوں نے اپنی شکست کا برملا اعتراف کر لیا پھر اسی پر اکتفا نہ کیا۔ بلکہ اسی بھرے مجمع میں رب العالمین پر ایمان لانے کا اقرار کیا اور یہ بھی ساتھ ہی وضاحت کر دی کہ رب سے مراد ہماری مراد فرعون نہیں بلکہ رب العالمین سے ہماری مراد وہ پروردگار ہے جو ہر چیز کا پرورش کنندہ ہے اور جس کی طرف موسیٰؑ اور ہارونؑ دعوت دے رہے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔