ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 4

اِنۡ نَّشَاۡ نُنَزِّلۡ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَۃً فَظَلَّتۡ اَعۡنَاقُہُمۡ لَہَا خٰضِعِیۡنَ ﴿۴﴾
اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے کوئی نشانی اتار دیں، پھر اس کے سامنے ان کی گردنیں نیچی ہو جائیں۔ En
اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے نشانی اُتار دیں۔ پھر ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں
En
اگر ہم چاہتے تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتارتے کہ جس کے سامنے ان کی گردنیں خم ہو جاتیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 4) {اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ …:} آسمان سے نشانی اتارنے سے مراد وہ معجزے دکھانا ہے جن کا وہ مطالبہ کرتے تھے۔ (سعدی) یعنی اگر ہم چاہیں تو آسمان سے کوئی نشانی اتار دیں، جس کے آنے کے بعد ان کے لیے مانے بغیر کوئی چارہ کار نہ رہے، لیکن ہم ایسا نہیں کرتے، کیونکہ دنیا امتحان کا گھر ہے اور ہمارا فیصلہ یہ ہے کہ جو شخص بھی ایمان لائے سوچ سمجھ کر اپنے اختیار سے لائے، نہ کہ کسی دباؤ اور مجبوری کے تحت۔ اس لیے ہم نے انبیاء و رسل بھیجے، صحیفے اور کتابیں نازل فرمائیں۔ یہ حقیقت قرآن میں متعدد مقامات پر بیان کی گئی ہے۔ دیکھیے سورۂ یونس (۹۹)، ہود (۱۱۸، ۱۱۹) اور غاشیہ (۲۱، ۲۲) اور ہم اس لیے بھی نشانی نہیں اتارتے کہ ایمان وہ معتبر ہے جو بن دیکھے ہو، جب غیب ہی سے پردہ اٹھ گیا، پھر کوئی ایمان لائے بھی تو اسے کوئی فائدہ نہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ فِيْ عِبَادِهٖ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ [المؤمن: ۸۵] پھر یہ نہ تھا کہ ان کا ایمان انھیں فائدہ دیتا، جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔ یہ اللہ کا طریقہ ہے جو اس کے بندوں میں گزر چکا اور اس موقع پر کافر خسارے میں رہے۔ اور دیکھیے سورۂ حجر (۶ تا ۸) اور فرقان (۲۱، ۲۲)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

4-1یعنی جسے مانے اور جس پر ایمان لائے بغیر چارہ نہ ہوتا۔ لیکن اس طرح جبر کا پہلو شامل ہوجاتا، جب کہ ہم نے انسان کو ارادہ و اختیار کی آزادی دی ہے تاکہ اس کی آزمائش کی جائے۔ اس لئے ہم نے ایسی نشانی بھی اتارنے سے گریز کیا جس سے ہمارا یہ قانون متاثر ہو۔ اور صرف انبیاء و رسل بھیجنے اور کتابیں نازل کرنے پر ہی اکتفا کیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ اگر ہم چاہتے تو ان پر آسمان سے کوئی معجزہ اتار دیتے جس کے آگے ان کی گردنیں جھک جاتیں [3]۔
[3] جبری ایمان اللہ کو مطلوب نہیں:۔
اگر ان کا ایمان لانا ہی مطلوب و مقصود ہوتا تو یہ کام یوں بھی ہو سکتا تھا کہ ہم کوئی ایسا معجزہ نازل کر دیتے۔ جس کی بنا پر یہ ایمان لانے پر مجبور ہو جاتے۔ مگر یہ بات ہماری مشیت کے خلاف ہے۔ ایسا جبری ایمان لانے کا نہ کوئی فائدہ ہے اور نہ ہمیں مطلوب ہے۔ مطلوب تو یہ ہے کہ انہیں راہ ہدایت سمجھا دینے کے بعد کون شخص اپنی عقل و تمیز کو کام میں لا کر اور اپنے ارادہ و اختیار سے ایمان لاتا ہے۔ اور یہی چیز انسان کی پیدائش کا مقصود اصلی ہے ورنہ اللہ انسان کو بھی دوسری مخلوق کی طرح پیدا کر سکتا تھا۔ جو اللہ کے سامنے ہر حال میں سر تسلیم خم کرنے پر مجبور ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔