اس آیت کی تفسیر آیت 36 میں تا آیت 38 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
37-1یعنی ان دونوں کو فی الحال اپنے حال پر چھوڑ دو، اور تمام شہروں سے جادوگروں کو جمع کرکے ان کا باہمی مقابلہ کیا جائے تاکہ ان کے کرتب کا جواب اور تیری تائید و نصرت ہوجائے۔ اور یہ اللہ ہی کی طرف سے سب انتطام تھا تاکہ لوگ ایک ہی جگہ جمع ہوجائیں اور دلائل کا بہ چشم خود مشاہدہ کریں، جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو عطا فرمائے تھے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
37۔ جو ہر سیانے جادوگر کو اکٹھا کر کے آپ کے پاس لے آئیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔