ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 37

یَاۡتُوۡکَ بِکُلِّ سَحَّارٍ عَلِیۡمٍ ﴿۳۷﴾
کہ وہ تیرے پاس ہر بڑا جادو گر لے آئیں، جو بہت ماہر فن ہو۔
کہ سب ماہر جادوگروں کو (جمع کرکے) آپ کے پاس لے آئیں
جو آپ کے پاس ذی علم جادو گروں کو لے آئیں

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 36 میں تا آیت 38 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

37-1یعنی ان دونوں کو فی الحال اپنے حال پر چھوڑ دو، اور تمام شہروں سے جادوگروں کو جمع کرکے ان کا باہمی مقابلہ کیا جائے تاکہ ان کے کرتب کا جواب اور تیری تائید و نصرت ہوجائے۔ اور یہ اللہ ہی کی طرف سے سب انتطام تھا تاکہ لوگ ایک ہی جگہ جمع ہوجائیں اور دلائل کا بہ چشم خود مشاہدہ کریں، جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو عطا فرمائے تھے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

37۔ جو ہر سیانے جادوگر کو اکٹھا کر کے آپ کے پاس لے آئیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔