(آیت 37،36) {قَالُوْۤااَرْجِهْوَاَخَاهُ …:} ان آیات کی تفسیر سورۂ اعراف (۱۱۱، ۱۱۲) میں گزر چکی ہے، فرق یہ ہے کہ وہاں {”اَرْسِلْ“} ہے اور یہاں {”ابْعَثْ“ } ہے، دونوں ہم معنی ہیں۔ اس کے علاوہ وہاں {”سٰحِرٍعَلِيْمٍ“} ہے اور یہاں {”سَحَّارٍعَلِيْمٍ“} ہے، یہاں مبالغہ کا صیغہ ہونے کی وجہ سے ترجمہ کیا ہے: ”کہ وہ تیرے پاس ہر بڑا جادو گر لے آئیں، جو بہت ماہر فن ہو۔“ جبکہ وہاں ترجمہ ہے ”کہ وہ تیرے پاس ہر ماہر فن جادوگر لے آئیں۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
36۔ وہ کہنے لگے: اس کے اور اس کے بھائی کے معاملہ کو التوا میں ڈال دیجئے اور شہروں [29] میں ایسے آدمی بھیج دیجئے۔
[29] ماہر جادوگروں کی طلبی:۔
درباری حضرات عموماً جی حضور کہنے اور بڑی سرکار کی ہاں میں ہاں ملانے کے عادی ہوتے ہیں۔ اور اسی میں ان کی عافیت ہوتی ہے۔ فوراً کہنے لگے۔ واقعی یہ بہت بڑا جادوگر ہے اور ہمیں جادو کا مقابلہ جادو ہی سے کرنا چاہئے۔ آپ یوں کیجئے کہ جلدی میں کچھ فیصلہ نہ کیجئے۔ بلکہ ملک بھر کے چوٹی کے جادوگروں کو اپنے ہاں بلا لیجئے۔ جو اس کا مقابلہ کر سکیں۔ فرعون اپنے درباریوں سے ایسا ہی جواب سننا چاہتا تھا۔ کیونکہ وہ خود اپنے درباریوں اور اپنی رعایا کو اسی چکر میں ڈالنا اور یہی کچھ ذہین نشین کرانا چاہتا تھا کہ موسیٰ اور اس کا بھائی اللہ کے رسول نہیں بلکہ محض جادوگر ہیں۔ چنانچہ فرعون نے اپنے درباریوں سے مشورہ کے بعد تمام شہروں کے نامور جادوگروں کو اپنے ہاں طلب کر لیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔