(آیت 35،34) {قَالَلِلْمَلَاِحَوْلَهٗۤ …:} ابھی خدائی کے دعوے تھے اور ابھی اپنے وزیروں اور درباریوں سے پوچھنے پر اتر آیا کہ بتاؤ کیا کیا جائے، اس آئی بلا کو کیونکر ٹالا جائے؟ اس نے اپنے اقتدار کا سورج غروب ہوتے دیکھ کر یہ رویہ اختیار کیا۔ یہاں یہ ذکر ہے کہ یہ بات فرعون نے کہی، جب کہ سورۂ اعراف (۱۰۹، ۱۱۰) میں ہے کہ یہ بات فرعون کے سرداروں نے کہی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بات فرعون نے کہی تو اس کے سرداروں نے بھی وہی بات دہرا دی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
34-1فرعون بجائے اس کے کہ ان معجزات کو دیکھ کر، حضرت موسیٰ ؑ کی تصدیق کرتا اور ایمان لاتا، اس نے جھٹلانے اور عناد کا راستہ اختیار کیا اور حضرت موسیٰ ؑ کی بابت کہا کہ یہ کوئی بڑا فنکار جادوگر ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
34۔ فرعون نے اپنے آس پاس والوں سے کہا: ”یہ تو یقیناً بڑا ماہر جادو گر ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔