ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 34

قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَہٗۤ اِنَّ ہٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیۡمٌ ﴿ۙ۳۴﴾
اس نے ان سرداروں سے کہا جو اس کے ارد گرد تھے، یقینا یہ تو ایک بہت ماہر فن جادو گر ہے۔
فرعون نے اپنے گرد کے سرداروں سے کہا کہ یہ تو کامل فن جادوگر ہے
فرعون اپنے آس پاس کے سرداروں سے کہنے لگا بھئی یہ تو کوئی بڑا دانا جادوگر ہے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 35،34) {قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ …:} ابھی خدائی کے دعوے تھے اور ابھی اپنے وزیروں اور درباریوں سے پوچھنے پر اتر آیا کہ بتاؤ کیا کیا جائے، اس آئی بلا کو کیونکر ٹالا جائے؟ اس نے اپنے اقتدار کا سورج غروب ہوتے دیکھ کر یہ رویہ اختیار کیا۔ یہاں یہ ذکر ہے کہ یہ بات فرعون نے کہی، جب کہ سورۂ اعراف (۱۰۹، ۱۱۰) میں ہے کہ یہ بات فرعون کے سرداروں نے کہی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بات فرعون نے کہی تو اس کے سرداروں نے بھی وہی بات دہرا دی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

34-1فرعون بجائے اس کے کہ ان معجزات کو دیکھ کر، حضرت موسیٰ ؑ کی تصدیق کرتا اور ایمان لاتا، اس نے جھٹلانے اور عناد کا راستہ اختیار کیا اور حضرت موسیٰ ؑ کی بابت کہا کہ یہ کوئی بڑا فنکار جادوگر ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

34۔ فرعون نے اپنے آس پاس والوں سے کہا: ”یہ تو یقیناً بڑا ماہر جادو گر ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔