(آیت 33،32) {فَاَلْقٰىعَصَاهُفَاِذَاهِيَ …:} ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۱۰۷، ۱۰۸)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
32-1بعض جگہ ثعبان کو حیۃ اور بعض جگہ جان کہا گیا ہے ثعبان وہ سانپ ہوتا ہے جو بڑا ہو اور جان چھوٹے سانپ کو کہتے ہیں او حیۃ چھوٹے بڑے دونوں قسم کے سانپوں پر بولا جاتا ہے۔ فتح القدیر۔ گویا لاٹھی نے پہلے چھوٹے سانپ کی شکل اختیار کی پھر دیکھتے دیکھتے اژدھا بن گئی۔ واللہ اعلم
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
32۔ چنانچہ موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا تو وہ فوراً ہو بہو ایک اژدھا [25] بن گیا۔
[25] معجزات سے فرعون اور درباریوں کی اثر پذیری :۔
فرعون نے جب موسیٰؑ سے اپنی رسالت کے ثبوت میں نشانی کا مطالبہ کیا تو آپ نے دربار میں ہی اپنا عصا زمین پر پھینک دیا وہ دیکھتے دیکھتے بہت بڑا سانپ یا اژدہا بن کر فرعون کی طرف بڑھا۔ جس سے فرعون سخت دہشت زدہ ہو گیا اور موسیٰؑ سے التجا کی کہ اسے سنبھالو۔ حضرت موسیٰؑ کا اسے ہاتھ میں لینا ہی تھا کہ وہ پھر سے عصا بن گیا۔ عصا سے بننے والے سانپ کے لئے قرآن کریم میں تین لفظ استعمال ہوئے ہیں۔ ایک مقام پر اسے حیہ فرمایا اور حیة کا لفظ سانپ کے لئے اسم جنس ہے جو ہر قسم کے سانپ کے لئے نیز نر و مادہ کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے۔ دوسرے مقام پر جانّ کا لفظ آیا ہے جس کا معنی پتلا، سبک رفتار اور پھرتیلا سانپ ہے اور یہاں ثعبان کا لفظ آیا ہے۔ یہ لفظ بڑے سانپ یا اژدہا کے لئے آتا ہے۔ اب ان کی تطبیق یا تو اس صورت میں ہو سکتی ہے کہ جب موسیٰؑ نے عصا پھینکا تو وہ پہلے پتلا اور پھرتیلا سا سانپ بنا ہو۔ بعد میں دیکھتے ہی دیکھتے اژدہا بن گیا ہو اور یا اس طرح کہ عصا نے شکل تو اژدہا کی اختیار کر لی ہو مگر اس میں پھرتی پتلے سانپ جیسی ہو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔