قَالَ لَئِنِ اتَّخَذۡتَ اِلٰـہًا غَیۡرِیۡ لَاَجۡعَلَنَّکَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِیۡنَ ﴿۲۹﴾
کہا یقینا اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے ضرور ہی قید کیے ہوئے لوگوں میں شامل کر دوں گا۔
(فرعون نے) کہا کہ اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تمہیں قید کردوں گا
فرعون کہنے لگا سن لے! اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں ڈال دوں گا
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 29) ➊ { قَالَ لَىِٕنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَيْرِيْ …:} ہر ظالم و جابر اور باطل کے علم بردار حکمران کا وتیرہ ہے کہ جب وہ دلیل کے میدان میں شکست کھاتا ہے تو آخری حربے کے طور پر طاقت کے استعمال کی دھمکی دیتا ہے کہ یا تو ہمارے غلط کو بھی صحیح مانو، ورنہ سزا کے لیے تیار ہو جاؤ۔ فرعون نے بھی آخر میں صاف کہہ دیا کہ مصر میں میرے سوا کوئی خدا نہیں اور نہ کسی کا حکم چلے گا، اگر میرے سوا کسی اور معبود کی حکومت مانی تو تمھارے لیے قید خانہ تیار ہے۔
➋ {لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِيْنَ:} فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کو یہ کہنے کے بجائے کہ{”لَأَسْجُنَنَّكَ“} (میں تجھے قید کر دوں گا) یہ کہا کہ ”میں تجھے قید کیے ہوئے لوگوں میں شامل کر دوں گا۔“ اس میں وہ موسیٰ علیہ السلام کو نہایت خوفناک نتیجے سے ڈرا رہا تھا کہ ان لوگوں کا حال دیکھ لو جنھیں میں نے قید کر رکھا ہے، تمھیں بھی ان کے ساتھ شامل کر دوں گا۔ واضح رہے کہ آخرت کا منکر اور جواب دہی کے احساس سے عاری ہونے کی وجہ سے فرعون نہایت سنگدل تھا اور انسانیت اور رحم سے یکسر ناآشنا تھا، وہ اپنے مخالفوں سے قید خانے میں جو سلوک کرتا ہو گا بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کرنے کو پیش نظر رکھ کر اس کا تصور کچھ مشکل نہیں۔
➋ {لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِيْنَ:} فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کو یہ کہنے کے بجائے کہ{”لَأَسْجُنَنَّكَ“} (میں تجھے قید کر دوں گا) یہ کہا کہ ”میں تجھے قید کیے ہوئے لوگوں میں شامل کر دوں گا۔“ اس میں وہ موسیٰ علیہ السلام کو نہایت خوفناک نتیجے سے ڈرا رہا تھا کہ ان لوگوں کا حال دیکھ لو جنھیں میں نے قید کر رکھا ہے، تمھیں بھی ان کے ساتھ شامل کر دوں گا۔ واضح رہے کہ آخرت کا منکر اور جواب دہی کے احساس سے عاری ہونے کی وجہ سے فرعون نہایت سنگدل تھا اور انسانیت اور رحم سے یکسر ناآشنا تھا، وہ اپنے مخالفوں سے قید خانے میں جو سلوک کرتا ہو گا بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کرنے کو پیش نظر رکھ کر اس کا تصور کچھ مشکل نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
29-1فرعون نے دیکھا کہ موسیٰ ؑ مختلف انداز سے رب العالمین کی ربوبیت کامل کی وضاحت کر رہے ہیں جس کا کوئی معقول جواب اس سے نہیں بن پا رہا ہے۔ تو اس نے دلائل سے صرف نظر انداز کرکے دھمکی دینی شروع کردی اور موسیٰ ؑ کو قید کرنے سے ڈرایا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
29۔ فرعون بولا: ”دیکھو! اگر تم نے میرے سوا کوئی اور الٰہ مانا تو میں تجھے قید [22] میں ڈال دوں گا
[22] فرعون کے خدائی کے دعویٰ کی نوعیت کیا تھی؟
دنیا میں جتنے بھی مشرکین یا خدائی کے دعوے دار گزار ہیں۔ وہ سب یہ بات تسلیم کرتے تھے کہ اس کائنات کا خالق و مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ فرعون کا بھی یہی حال تھا وہ خدائی کا دعویدار صرف ان معنوں میں تھا کہ وہ اپنے سیاسی اقتدار میں کسی بالاتر ہستی کی مداخلت کا قائل نہ تھا۔ بالفاظ دیگر وہ اللہ تعالیٰ کے اس پوری کائنات کے خالق و مالک ہونے کا تو قائل تھا مگر اس کی قانونی یا سیاسی حاکمیت کا قائل نہ تھا۔ اور اپنی مملکت میں اپنے قانون کو ہی بالا تر قانون سمجھتا تھا۔ اور اپنی رعیت کو بھی اسی راستے پر لگائے ہوئے تھا۔ اور موسیٰؑ نے اس سے جو مطالبہ کیا تھا وہ براہ راست اس کے قانونی اور سیاسی اختیارات پر حملہ تھا۔ لہٰذا اس نے حضرت موسیٰؑ اور ان کے بھائی کو حکومت کے باغی قرار دیتے ہوئے یہ دھمکی دی کہ اگر تم اپنے مطالبہ سے باز نہ آئے تو میں تمہیں ملکی قانون بغاوت کے جرم میں قید میں ڈال دوں گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
فرعون اور موسیٰ علیہ السلام کا مباحثہ ٭٭
جب مباحثے میں فرعون ہارا دلیل و بیان میں غالب نہ آسکا تو قوت و طاقت کا مظاہرہ کرنے لگا اور سطوت و شوکت سے حق کو دبانے کا ارادہ کیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ (علیہ السلام) میرے سوا کسی اور کو معبود بنائے گا تو جیل میں سڑا سڑا کر تیری جان لے لونگا۔
موسیٰ علیہ السلام بھی چونکہ وعظ ونصیحت کر ہی چکے تھے آپ علیہ السلام نے بھی ارادہ کیا کہ میں بھی اسے اور اس کی قوم کو دوسری طرح قائل کروں تو فرمانے لگے ”کیوں جی میں اگر اپنی سچائی پر کسی ایسے معجزے کا اظہار کروں کہ تمہیں بھی قائل ہونا پڑے تب؟“ فرعون سو اس کے کیا کر سکتا تھا کہ کہا اچھا اگر سچا ہے تو پیش کر۔
آپ علیہ السلام نے سنتے ہی اپنی لکڑی جو آپ علیہ السلام کے ہاتھ میں تھی ہی اسے زمین پر ڈال دیا۔ بس اس کا زمین پر گرنا تھا کہ وہ ایک اژدہے کی شکل بن گئی۔ اور اژدہا بھی بہت بڑا تیز کچلیوں والا ہیبت ناک ڈراؤنی اور خوفناک شکل والا منہ پھاڑے ہوئے پھنکارتا ہوا۔ ساتھ ہی اپنے گریبان میں اپنا ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ چاند کی طرح چمکتاہوا نکلا۔
فرعون کی قسمت چونکہ ایمان سے خالی تھی ایسے واضح معجزے دیکھ کر بھی اپنی بدبختی پر اڑا رہا اور تو کچھ بن نہ پڑا اپنے ساتھیوں اور درباریوں سے کہنے لگا کہ یہ تو جادو کے کرشمے ہیں۔ بے شک اتنا تو میں بھی مان گیا کہ یہ اپنے فن جادوگری میں استاد کامل ہے۔ پھر انہیں موسیٰ علیہ السلام کی دشمنی پر آمادہ کرنے کے لیے ایک اور بات بنائی کہ یہ ایسے ہی شعبدے دکھا دکھا کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر لے گا۔ اور جب کچھ لوگ اس کے ساتھی ہو جائیں گے تو یہ علم بغاوت بلند کر دے گا پھر تمہیں مغلوب کر کے اس ملک میں قبضہ کر لے گا تو اس کے استحصال کی کوشش ابھی سے کرنی چاہیئے۔ بتلاؤ تمہاری رائے کیا ہے؟ اللہ کی قدرت دیکھو کہ فرعونیوں سے اللہ نے وہ بات کہلوائی جس سے موسیٰ علیہ السلام کو عام تبلیغ کا موقعہ ملے اور لوگوں پر حق واضح ہو جائے۔ یعنی جادوگروں کو مقابلہ کے لیے بلوانا۔
موسیٰ علیہ السلام بھی چونکہ وعظ ونصیحت کر ہی چکے تھے آپ علیہ السلام نے بھی ارادہ کیا کہ میں بھی اسے اور اس کی قوم کو دوسری طرح قائل کروں تو فرمانے لگے ”کیوں جی میں اگر اپنی سچائی پر کسی ایسے معجزے کا اظہار کروں کہ تمہیں بھی قائل ہونا پڑے تب؟“ فرعون سو اس کے کیا کر سکتا تھا کہ کہا اچھا اگر سچا ہے تو پیش کر۔
آپ علیہ السلام نے سنتے ہی اپنی لکڑی جو آپ علیہ السلام کے ہاتھ میں تھی ہی اسے زمین پر ڈال دیا۔ بس اس کا زمین پر گرنا تھا کہ وہ ایک اژدہے کی شکل بن گئی۔ اور اژدہا بھی بہت بڑا تیز کچلیوں والا ہیبت ناک ڈراؤنی اور خوفناک شکل والا منہ پھاڑے ہوئے پھنکارتا ہوا۔ ساتھ ہی اپنے گریبان میں اپنا ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ چاند کی طرح چمکتاہوا نکلا۔
فرعون کی قسمت چونکہ ایمان سے خالی تھی ایسے واضح معجزے دیکھ کر بھی اپنی بدبختی پر اڑا رہا اور تو کچھ بن نہ پڑا اپنے ساتھیوں اور درباریوں سے کہنے لگا کہ یہ تو جادو کے کرشمے ہیں۔ بے شک اتنا تو میں بھی مان گیا کہ یہ اپنے فن جادوگری میں استاد کامل ہے۔ پھر انہیں موسیٰ علیہ السلام کی دشمنی پر آمادہ کرنے کے لیے ایک اور بات بنائی کہ یہ ایسے ہی شعبدے دکھا دکھا کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر لے گا۔ اور جب کچھ لوگ اس کے ساتھی ہو جائیں گے تو یہ علم بغاوت بلند کر دے گا پھر تمہیں مغلوب کر کے اس ملک میں قبضہ کر لے گا تو اس کے استحصال کی کوشش ابھی سے کرنی چاہیئے۔ بتلاؤ تمہاری رائے کیا ہے؟ اللہ کی قدرت دیکھو کہ فرعونیوں سے اللہ نے وہ بات کہلوائی جس سے موسیٰ علیہ السلام کو عام تبلیغ کا موقعہ ملے اور لوگوں پر حق واضح ہو جائے۔ یعنی جادوگروں کو مقابلہ کے لیے بلوانا۔