ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 28

قَالَ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا ؕ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۲۸﴾
اس نے کہا جو مشرق و مغرب کا رب ہے اور اس کا بھی جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر تم سمجھتے ہو۔
موسیٰ نے کہا کہ مشرق اور مغرب اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا مالک، بشرطیکہ تم کو سمجھ ہو
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا! وہی مشرق ومغرب کا اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب ہے، اگر تم عقل رکھتے ہو

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 28) ➊ { قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ …:} شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: موسیٰ علیہ السلام ایک بات کہے جاتے تھے اللہ کی قدرتیں بتانے کو اور فرعون بیچ میں اپنے سرداروں کو ابھارتا تھا کہ ان کو یقین نہ آ جائے۔ پاگل ہونے کے الزام کے جواب میں موسیٰ علیہ السلام نے اب وہ دلیل پیش کی جو ان کے جدّ امجد ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے پیش کی تھی کہ رب العالمين وہ ہے جو مشرق و مغرب اور ان کے مابین کا رب ہے، جو ہمیشہ سے سورج کو مشرق سے طلوع کرتا ہے اور مغرب میں غروب کرتا ہے، تمھیں رب ہونے کا زعم ہے تو ذرا سورج کو مغرب سے نکال کر دکھا دو۔
➋ { اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ:} مجھے دیوانہ بتاتے ہو اور خود عقل مند ہونے کا دعویٰ کرتے ہو، اگر تم میں واقعی عقل ہے تو بتاؤ کہ رب وہ ہے جس کے حکم سے سورج ہمیشہ مشرق سے طلوع اور مغرب میں غروب ہوتا ہے، یا تم جو ایک دفعہ بھی ایسا نہیں کر سکتے۔پہلی دفعہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کے متعلق نرم لفظ استعمال فرمائے، یعنی { اِنْ كُنْتُمْ مُوْقِنِیْنَ} لیکن جب اس نے مجنون ہونے کا الزام لگایا تو موسیٰ علیہ السلام نے سخت الفاظ استعمال فرمائے { اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ} کہ اگر تم سمجھتے ہو۔ (ابن جَزیّ)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

28-1یعنی جس نے مشرق کو مشرق بنایا، جس سے کواکب طلوع ہوتے ہیں اور مغرب کو مغرب بنایا جس میں کواکب غروب ہوتے ہیں۔ اسی طرح ان کے درمیان جو کچھ ہے، ان سب کا رب اور ان کا انتظام کرنے والا بھی وہی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

28۔ موسیٰ نے کہا: ”وہی مشرق اور مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا پروردگار [21] ہے۔ اگر تمہیں کچھ سمجھ آ سکے۔
[21] موسیٰؑ نے فرعون کو جب یوں بوکھلایا ہوا دیکھا تو پھر سے اپنے دعویٰ پر زور دیتے ہوئے اور رب العالمین کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا کہ روئے زمین پر جتنی بھی مخلوق آباد ہے۔ خواہ اس کا تعلق اس ملک مصر سے ہو یا مشرق سے ہو یا مغرب سے ہو یا کہیں سے بھی ہو ساری مخلوق کا پروردگار وہی رب العالمین ہے اب امید ہے تم لوگوں کو سمجھ آ گئی ہو گی کہ رب العالمین کون ہے؟ اور میں کون ہوں؟ تم تو صرف زمین کے ایک چپہ بھر ملک کے فرمانروا ہو اور میں اس رب العالمین کا رسول ہوں جس کی فرمانروائی اس پوری زمین پر ہی نہیں پوری کائنات پر ہے۔ لہٰذا تمہارے حق میں بہتری اسی بات میں ہے کہ تم فرمانروائے کائنات کے رسول کی بات مان لو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔