(آیت 24) { قَالَرَبُّالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِ …:} موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا، رب العالمین وہ ہے جو آسمانوں کا اور زمین کا اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا رب ہے، اگر تم میں کسی چیز پر یقین کرنے کی صلاحیت ہے تو اس بات پر یقین کے سوا تمھارے لیے کوئی چارہ نہیں، تم تو زمین کے ایک نہایت چھوٹے سے قطعہ مصر پر حکومت کی وجہ سے رب اعلیٰ بن رہے ہو، حالانکہ تم نے مصر کو نہ پیدا کیا نہ اہل مصر کو روزی دے رہے ہو۔ تو وہ جس نے زمین و آسمان اور وہ سب کچھ پیدا فرمایا جو ان دونوں کے درمیان ہے اور ان کی پرورش بھی کر رہا ہے۔ غور کرو تمھیں کس بات پر یقین آتا ہے، اپنے رب ہونے پر یا اس کے رب ہونے پر جو آسمانوں کا، زمین کا اور ان دونوں کے درمیان کی ہر چیز کا خالق و مالک اور رازق ہے؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
24۔ موسیٰ نے کہا: ”وہ جو آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا مالک [17] ہے، اگر تمہیں کچھ یقین آ جائے“
[17]موسیٰؑ نے جواب دیا کہ رب العالمین وہ ہے جو اس پوری کائنات کا خالق و مالک ہے۔ اگر تمہیں اس بات کا یقین ہے کہ اس کائنات کو وجود میں لانے والی کوئی ہستی موجود ہے تو سمجھ لو کہ میں اس ہستی کی طرف سے تیرے پاس رسول بن کر آیا ہوں اور تمہیں اسی کا پیغام پہنچا رہا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔