اس آیت کی تفسیر آیت 218 میں تا آیت 220 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
219-1یعنی جب تو تنہا ہوتا ہے، تب بھی اللہ دیکھتا ہے اور جب لوگوں میں ہوتا ہے تب بھی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
219۔ اور سجدہ کرنے والوں کے درمیان [131] آپ کے (رکوع و سجود) کی حرکات کو بھی دیکھتا ہے
[131] اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ جب آپ نماز با جماعت میں اپنے مقتدیوں کے ساتھ رکوع و سجود کرتے ہیں، اس وقت اللہ تعالیٰ آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ دوسرا یہ کہ جب آپ رات کو اٹھ کر گشت کرتے ہیں کہ کون کون سے عبادت گزار اس وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہیں اور کون کون سے غافل ہیں۔ اس وقت بھی اللہ آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ تیسرا یہ کہ سجدہ گزار لوگوں کے ساتھ مل کر آپ جو بھی اعلائے کلمۃ الحق کے لئے تگ و دو کرتے ہیں۔ اللہ آپ لوگوں کی ایک ایک نقل و حرکت سے واقف ہوتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔