ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 216

فَاِنۡ عَصَوۡکَ فَقُلۡ اِنِّیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۱۶﴾ۚ
پھر اگر وہ تیری نافرمانی کریں تو کہہ دے کہ بے شک میں اس سے بری ہوں جو تم کرتے ہو۔
پھر اگر لوگ تمہاری نافرمانی کریں تو کہہ دو کہ میں تمہارے اعمال سے بےتعلق ہوں
اگر یہ لوگ تیری نافرمانی کریں تو تو اعلان کردے کہ میں ان کاموں سے بیزار ہوں جو تم کر رہے ہو

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 216) {فَاِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ …:} یعنی پھر اگر وہ تیری نافرمانی کریں، تیرے قریب ترین رشتہ دار ہوں یا کوئی اور، تو ان کے ساتھ مومنوں کے لیے نرمی والے معاملے کے بجائے ان سے الگ ہو جا اور کہہ دے کہ تم جس نافرمانی کا ارتکاب کر رہے ہو میں اس سے بری ہوں۔ ممکن ہے تیرا لاتعلقی کا اعلان ہی انھیں واپس لے آئے، یا کم از کم تو اللہ کے ہاں بری ہو جائے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

216۔ پھر اگر آپ کی نافرمانی کریں تو ان سے کہئے کہ جو کچھ تم کرتے ہو [128]، میں اس سے بری الذمہ ہوں۔
[128] ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس کا یہی مطلب ہے کہ ان قریبی رشتہ داروں سے جو آپ پر ایمان لے آئیں اور آپ کی دعوت کو تسلیم کر لیں آپ ان سے تواضع سے پیش آئیے۔ اور جو نہ مانیں انھیں صاف سنا دیجئے کہ قیامت کے دن میں تمہارے کسی کام نہ آسکوں گا۔ تمہیں اپنے ان شرکیہ اعمال و افعال کا نتیجہ خود ہی بھگتنا پڑے گا۔ تاہم یہ حکم عام ہے۔ جس میں آپ کے رشتہ دار اور غیر رشتہ دار سب قسم کے لوگ شامل ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔