(آیت 216) {فَاِنْعَصَوْكَفَقُلْ …:} یعنی پھر اگر وہ تیری نافرمانی کریں، تیرے قریب ترین رشتہ دار ہوں یا کوئی اور، تو ان کے ساتھ مومنوں کے لیے نرمی والے معاملے کے بجائے ان سے الگ ہو جا اور کہہ دے کہ تم جس نافرمانی کا ارتکاب کر رہے ہو میں اس سے بری ہوں۔ ممکن ہے تیرا لاتعلقی کا اعلان ہی انھیں واپس لے آئے، یا کم از کم تو اللہ کے ہاں بری ہو جائے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
216۔ پھر اگر آپ کی نافرمانی کریں تو ان سے کہئے کہ جو کچھ تم کرتے ہو [128]، میں اس سے بری الذمہ ہوں۔
[128] ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس کا یہی مطلب ہے کہ ان قریبی رشتہ داروں سے جو آپ پر ایمان لے آئیں اور آپ کی دعوت کو تسلیم کر لیں آپ ان سے تواضع سے پیش آئیے۔ اور جو نہ مانیں انھیں صاف سنا دیجئے کہ قیامت کے دن میں تمہارے کسی کام نہ آسکوں گا۔ تمہیں اپنے ان شرکیہ اعمال و افعال کا نتیجہ خود ہی بھگتنا پڑے گا۔ تاہم یہ حکم عام ہے۔ جس میں آپ کے رشتہ دار اور غیر رشتہ دار سب قسم کے لوگ شامل ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔