ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 207

مَاۤ اَغۡنٰی عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یُمَتَّعُوۡنَ ﴿۲۰۷﴾ؕ
تو وہ فائدہ جو وہ دیے جاتے تھے، ان کے کس کام آئے گا؟
تو جو فائدے یہ اٹھاتے رہے ان کے کس کام آئیں گے
تو جو کچھ بھی یہ برتتے رہے اس میں سے کچھ بھی فائده نہ پہنچا سکے گا

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 206 میں تا آیت 208 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

27-1یعنی اگر ہم نے انھیں مہلت دے دیں اور پھر انھیں اپنے عذاب کی گرفت میں لیں، تو کیا دنیا کا مال و متاع ان کے کچھ کام آئے گا؟ یعنی انھیں عذاب سے بچا سکے گا؟ نہیں یقینا نہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

207۔ تو بھی وہ سامان عیش و عشرت جس [121] سے وہ لطف اندوز ہو رہے تھے۔ ان کے کچھ کام نہ آئے گا
[121] اتمام حجت کے بعد ہی عذاب آتا ہے :۔
یہ کافروں کے مہلت کے مطالبہ کا دوسرا جواب ہے یعنی ہم نے انھیں دنیا میں سال ہا سال تک مہلت دی تو کیا اس مہلت سے انہوں نے کچھ فائدہ اٹھایا؟ اور اگر ہم انھیں دوبارہ مہلت دے بھی دیں۔ پھر بھی یہ لوگ اس مہلت سے کچھ فائدہ نہیں اٹھائیں گے جب بڑی ہوئی مہلت میں ان کا سامان عیش و عشرت ان کے کسی کام نہ آئے گا تو اس سالہا سال تک دی ہوئی مہلت کو وہ بالکل تھوڑی مدت سمجھیں گے اور یہ خیال کریں گے کہ ہم بہت جلد پکڑے لئے گئے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔