ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 199

فَقَرَاَہٗ عَلَیۡہِمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ مُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۹۹﴾ؕ
پس وہ اسے ان پر پڑھتا تو بھی وہ اس پر ایمان لانے والے نہ ہوتے۔
اور وہ اسے ان (لوگوں کو) پڑھ کر سناتا تو یہ اسے (کبھی) نہ مانتے
پس وه ان کے سامنے اس کی تلاوت کرتا تو یہ اسے باور کرنے والے نہ ہوتے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 198 میں تا آیت 200 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

199-1یعنی کسی عجمی زبان میں نازل کرتے تو یہ کہتے کہ یہ ہماری سمجھ میں ہی نہیں آتا۔ جیسے (وَلَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِيًّا لَّـقَالُوْا لَوْلَا فُصِّلَتْ اٰيٰتُهٗ ڼءَاَعْجَمِيٌّ وَّعَرَبِيٌّ ۭ قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاۗءٌ ۭ وَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ فِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى ۭ اُولٰۗىِٕكَ يُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ) 41۔ فصلت:44) میں ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

199۔ جو انھیں پڑھ کو سناتا تو بھی یہ اس پر [117] ایمان نہ لاتے
[117] موجودہ صورت حال یہ ہے کہ نبی بھی عربی ہے اور قرآن بھی عربی زبان میں ہے تو ان کافروں کو یہ شبہ پڑ گیا ہے کہ کہیں قرآن اس نے خود ہی نہ تصنیف کر ڈالا ہو۔ اب فرض کیجئے کہ ہم یہی فصیح عربی زبان والا قرآن کسی عجمی پر نازل کرتے تو ان پر شک و شبہ کرنے کے لئے دوسری کئی راہیں کھل جاتیں۔ مثلاً یہ کہہ دیتے کہ یہ آیات اللہ نے جبریل کے ذریعہ اس پر نازل نہیں کیں بلک اسے تو کوئی جن یا شیطان پڑھا جاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ ”خوے بد را بہانہ بسیار“ والا معاملہ ہے۔ نیت میں فتور ہو تو شک و شبہ کے بہانے ہزاروں مل سکتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔