ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 194

عَلٰی قَلۡبِکَ لِتَکُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِیۡنَ ﴿۱۹۴﴾
تیرے دل پر، تاکہ تو ڈرانے والوں سے ہو جائے۔
(یعنی اس نے) تمہارے دل پر (القا) کیا ہے تاکہ (لوگوں کو) نصیحت کرتے رہو
آپ کے دل پر اترا ہے کہ آپ آگاه کر دینے والوں میں سے ہو جائیں

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 194) ➊ { عَلٰى قَلْبِكَ:} دوسری جگہ فرمایا: «{ قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ [البقرۃ: ۹۷] کہہ دے جو کوئی جبریل کا دشمن ہو تو بے شک اس نے یہ کتاب تیرے دل پر اللہ کے حکم سے اتاری ہے۔ یعنی اس قرآن مجید کو جبریل علیہ السلام نے کانوں کے ذریعے سے آپ کو سنانے کے بجائے آپ کے دل پر نازل کیا ہے۔ اگرچہ کانوں نے بھی دل ہی کو بات پہنچانی ہے، مگر بلاواسطہ دل پر نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اسے سمجھنے میں اور یاد رکھنے میں کوئی کمی نہ رہے، جیسا کہ فرمایا: «{ سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤى (6) اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ [الأعلٰی: ۶، ۷] ہم ضرور تجھے پڑھائیں گے تو تُو نہیں بھولے گا، مگر جو اللہ چاہے۔ اور دیکھیے سورۂ قیامہ (۱۶ تا ۱۹)۔
➋ { لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ:} یہ کہنے کے بجائے کہ تاکہ تو ڈرانے والا بن جائے فرمایا تاکہ تو انبیاء و رسل کی عظیم الشان جماعت میں شامل ہو جائے کیونکہ اس میں آپ کی زیادہ عظمت کا اظہار ہے۔ اگرچہ رسول نذیر بھی ہوتے ہیں اور بشیر بھی، مگر یہاں منذر ہونے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ اس سورت کا سارا بیان ہی انبیاء کے اپنی اقوام کو ڈرانے پر مشتمل ہے اور جیسا کہ پہلے گزرا کہ جب تک کسی شخص یا قوم کو اپنے غلط راستے پر چلنے کے خوفناک نتائج سے آگاہ نہ کیا جائے اس کا راہِ راست پر آنا مشکل ہوتا ہے، اس لیے ہر پیغمبر نے اپنی بات کا آغاز { اَلَا تَتَّقُوْنَ } سے فرمایا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

194-1دل کا بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا کہ حواس باختہ میں دل ہے سب سے زیادہ ادراک اور حفظ کی قوت رکھتا ہے۔ 194-2یعنی نزول قرآن کی علت ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

194۔ تاکہ آپ ڈرانے [113] والوں میں شامل ہو جائیں۔
[113] پھر یہی مبنی بر حقائق آیات جبریل امین لے کر براہ راست آپ کے دل پر اس کلام کو نازل کرتے ہیں تاکہ آپ ایسے واقعات تمام لوگوں کو سنا کر نافرمانوں کو ان کے برے انجام سے بروقت متنبہ کر دیں۔
وحی کے نزول کے وقت آپﷺ کی کیفیت:۔
واضح رہے وحی الٰہی تین صورتیں قرآن میں مذکور ہیں سب سے معروف شکل یہ ہے کہ جبریل پیغمبر کے دل پر نازل ہو کر وحی کے الفاظ پیغمبر میں ڈال دے اس صورت میں پیغمبر رشتہ عالم دنیا سے کٹ کر عالم بالا جڑ جاتا ہے۔ وحی کے دوران پیغمبر کے حواس ظاہری کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اور قلبی حواس کام کرنے لگ جاتے ہیں۔ پیغمبر دل کی آنکھ سے فرشتہ کو دیکھتا ہے۔ دل کے کانوں سے وحی سنتا ہے۔ بالفاظ دیگر وحی کے دوران پیغمبر کو بشریت سے کٹ کر ملکیت کی طرف کرتا ہے۔ لہٰذا وحی کی یہ شکل جسمانی لحاظ سے آپ کے لئے نہایت تکلیف دہ ہوتی تھی۔ شدید قسم کا بوجھ آپ پر پڑ جاتا تھا اور حالت غیر ہو جاتی تھی اور اس بوجھ کو وہ جاندار بھی محسوس کرتے تھے جن کا جسم آپ کے جسم سے لگا ہوتا تھا۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کبھی تو ایسے آتی ہے جیسے گھنٹے کی جھنکار اور یہ وحی مجھ پر بہت سخت گزرتی ہے۔ پھر جب فرشتے کا کہا مجھ کو یاد ہو جاتا ہے تو یہ موقوف ہو جاتی ہے۔ اور کبھی فرشتہ مرد کی صورت میں میرے پاس آتا ہے، مجھ سے بات کرتا ہے میں اس کا کہا یاد کر لیتا ہوں۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں دیکھا کہ سخت سردی کے دن پر آپ پر وحی اترتی پھر موقوف ہو جاتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی سے پسینہ نکلتا“ [بخاری۔ کتاب الوحی۔ باب کیف کان بدء الوحی الیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم]
نیز حضرت زید بن ثابتؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جب یہ آیت لکھنے کو کہا: ﴿لَا يَسْتَوِي الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ غَيْرُ اُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجٰهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اس وقت عبد اللہ بن ام مکتوم (جو نابینا تھے) نے آپ کے پاس آ کر کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر مجھے جہاد کی طاقت ہوتی تو میں ضرور جہاد کرتا۔ اسی وقت اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل فرمائی۔ اس وقت آپ کی ران میری ران پر تھی آپ کی ران اتنی بوجھل ہو گئی کہ مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ نیچے سے میری ران ٹوٹ جائے گی پھر جب وحی کی کیفیت موقوف ہوئی تو اللہ نے ﴿غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ بھی نازل فرمایا۔ [بخاری۔ کتاب التفسیر۔ سورۃ نساء]
(وحی کی دوسری صورتوں کے لئے دیکھئے سورۃ شوریٰ کی آیت نمبر 51 کا حاشیہ) وحی کی اس قسم کو وحی جلی کہتے ہیں۔ قرآن کریم سارے کا سارا وحی جلی کی صورت میں نازل ہوا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ وحی جلی ساری کی ساری قرآن میں محصور ہے۔ ایسی ہی وحی کا تھوڑا بہت حصہ احادیث میں بھی مذکور ہے۔ مثلاً زنا کی سزا سے متعلق عبادہ بن صامتؓ کی مرفوع روایت کہ (خذوا عنی خذوا عنی قد جعل لھن سبیلا) عبادہ بن صامتؓ کہتے ہیں کہ ”اس وحی کے نزول کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وہی کیفیت طاری ہوئی جو قرآن کی وحی کے نزول کے وقت طاری ہوتی تھی“ [مسلم۔ کتاب الحدود۔ باب حد الزنا]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔