وَ اِنَّہٗ لَتَنۡزِیۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۹۲﴾ؕ
اور بے شک یہ یقینا رب العالمین کا نازل کیا ہوا ہے۔
اور یہ قرآن (خدائے) پروردگار عالم کا اُتارا ہوا ہے
اور بیشک و شبہ یہ (قرآن) رب العالمین کا نازل فرمایا ہوا ہے
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 192) ➊ { وَ اِنَّهٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ:} شروع سورت میں تمہیداً قرآن کے ذکر سے مقصود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوت کو ثابت کرنا تھا، پھر جھٹلانے والوں کو دھمکی دی اور اس سلسلہ میں انبیاء کے سات قصے بیان فرمائے، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی ہو اور آپ کو جھٹلانے والے عبرت حاصل کریں۔ اب یہاں سے پھر رسالت کا اثبات شروع کیا اور آپ کی نبوت کے حق ہونے کے دلائل اور کفار کے شبہات کے جواب آخر سورت تک چلے گئے ہیں۔ (کبیر، قرطبی)
➋ {” تَنْزِيْلٌ“} مصدر ہے جو اسم مفعول کے معنی میں ہے، نازل کیا ہوا۔ کفار قرآن کے وحی الٰہی ہونے کا انکار کرتے تھے، اس لیے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے بھی منکر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کا آغاز یہ کہہ کر فرمایا کہ یہ کتاب مبین کی آیات ہیں، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینے کے لیے اور کفار کو کفر کے انجام بد سے ڈرانے کے لیے انبیائے کرام علیھم السلام کے سات قصّے بیان فرمائے، جو اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ یہ قرآن یقینا وحی الٰہی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں، کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ رسول، جو نہ پڑھ سکتا ہے نہ لکھ سکتا ہے، گزشتہ انبیاء اور قوموں کے واقعات کیسے بیان کر سکتا تھا۔ بلاغت کا قاعدہ ہے کہ انکار جتنا شدید ہو بات اتنی ہی تاکید سے کی جاتی ہے۔ اس لیے نہایت تاکید کے ساتھ فرمایا کہ بے شک یہ یقینا رب العالمین کا نازل کیا ہوا ہے، نہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اسے خود تصنیف کیا ہے، نہ کسی اور انسان یا جن کا گھڑا ہوا ہے۔
➋ {” تَنْزِيْلٌ“} مصدر ہے جو اسم مفعول کے معنی میں ہے، نازل کیا ہوا۔ کفار قرآن کے وحی الٰہی ہونے کا انکار کرتے تھے، اس لیے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے بھی منکر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کا آغاز یہ کہہ کر فرمایا کہ یہ کتاب مبین کی آیات ہیں، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینے کے لیے اور کفار کو کفر کے انجام بد سے ڈرانے کے لیے انبیائے کرام علیھم السلام کے سات قصّے بیان فرمائے، جو اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ یہ قرآن یقینا وحی الٰہی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں، کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ رسول، جو نہ پڑھ سکتا ہے نہ لکھ سکتا ہے، گزشتہ انبیاء اور قوموں کے واقعات کیسے بیان کر سکتا تھا۔ بلاغت کا قاعدہ ہے کہ انکار جتنا شدید ہو بات اتنی ہی تاکید سے کی جاتی ہے۔ اس لیے نہایت تاکید کے ساتھ فرمایا کہ بے شک یہ یقینا رب العالمین کا نازل کیا ہوا ہے، نہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اسے خود تصنیف کیا ہے، نہ کسی اور انسان یا جن کا گھڑا ہوا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
192۔ بلا شبہ یہ (قرآن) رب العالمین کا نازل کردہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مبارک کتاب ٭٭
سورۃ کی ابتداء میں قرآن کریم کا ذکر آیا تھا وہی ذکر پھر تفصیلاً بیان ہو رہا ہے کہ ’ یہ مبارک کتاب قرآن کریم اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی ہے ‘۔
روح الامین سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں جن کے واسطے سے یہ وحی سرور رسل علیہ السلام پر اتری ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَھُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [2-البقرة:97] یعنی ’ اس قرآن کو بحکم الٰہی جبرائیل علیہ السلام نے تیرے دل پر نازل فرمایا ہے۔ یہ قرآن اگلی تمام الہامی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔ یہ فرشتہ ہمارے ہاں ایسا مکرم ہے کہ اس کا دشمن ہمارا دشمن ہے ‘۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس سے روح الامین بولے اسے زمین نہیں کھاتی۔ اس بزرگ بامرتبہ فرشتے نے جو فرشتوں کا سردار ہے تیرے دل پر اس پاک اور بہتر کلام اللہ کو نازل فرمایا ہے جو ہر طرح کے میل کچیل سے کمی زیادتی سے نقصان اور کجی سے پاک ہے۔ تاکہ تو اللہ کے مخالفین کو گہنگاروں کو اللہ کی سزا سے بچاؤ کرنے کی رہبری کر سکے۔ اور تابع فرمان لوگوں کو اللہ کی مغفرت ورضوان کی خوشخبری پہنچ اس کے۔ یہ کھلی فصیح عربی زبان میں ہے۔ تاکہ ہر شخص سمجھ سکے پڑھ سکے۔ کسی کا عذر باقی نہ رہے اور ہر ایک پر قرآن کریم اللہ کی حجت بن جائے۔
{ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے نہایت فصاحت سے ابر کے اوصاف بیان کئے جسے سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم کہہ اٹھے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو کمال درجے کے فصیح وبلیغ زبان بولتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بھلا میری زبان ایسی پاکیزہ کیوں نہ ہو گی، قرآن بھی تو میری زبان میں اترا ہے } فرمان ہے آیت «بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ» [26-الشعراء:195]}۔ ۱؎ [ضعیف]
امام سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں وحی عربی میں اتری ہے یہ اور بات ہے کہ ہر نبی نے اپنی قوم کے لیے ان کی زبان میں ترجمہ کر دیا۔ قیامت کے دن سریانی زبان ہوگی ہاں جنتیوں کی زبان عربی ہوگی۔ [ابن ابی حاتم]
روح الامین سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں جن کے واسطے سے یہ وحی سرور رسل علیہ السلام پر اتری ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَھُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [2-البقرة:97] یعنی ’ اس قرآن کو بحکم الٰہی جبرائیل علیہ السلام نے تیرے دل پر نازل فرمایا ہے۔ یہ قرآن اگلی تمام الہامی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔ یہ فرشتہ ہمارے ہاں ایسا مکرم ہے کہ اس کا دشمن ہمارا دشمن ہے ‘۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس سے روح الامین بولے اسے زمین نہیں کھاتی۔ اس بزرگ بامرتبہ فرشتے نے جو فرشتوں کا سردار ہے تیرے دل پر اس پاک اور بہتر کلام اللہ کو نازل فرمایا ہے جو ہر طرح کے میل کچیل سے کمی زیادتی سے نقصان اور کجی سے پاک ہے۔ تاکہ تو اللہ کے مخالفین کو گہنگاروں کو اللہ کی سزا سے بچاؤ کرنے کی رہبری کر سکے۔ اور تابع فرمان لوگوں کو اللہ کی مغفرت ورضوان کی خوشخبری پہنچ اس کے۔ یہ کھلی فصیح عربی زبان میں ہے۔ تاکہ ہر شخص سمجھ سکے پڑھ سکے۔ کسی کا عذر باقی نہ رہے اور ہر ایک پر قرآن کریم اللہ کی حجت بن جائے۔
{ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے نہایت فصاحت سے ابر کے اوصاف بیان کئے جسے سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم کہہ اٹھے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو کمال درجے کے فصیح وبلیغ زبان بولتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بھلا میری زبان ایسی پاکیزہ کیوں نہ ہو گی، قرآن بھی تو میری زبان میں اترا ہے } فرمان ہے آیت «بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ» [26-الشعراء:195]}۔ ۱؎ [ضعیف]
امام سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں وحی عربی میں اتری ہے یہ اور بات ہے کہ ہر نبی نے اپنی قوم کے لیے ان کی زبان میں ترجمہ کر دیا۔ قیامت کے دن سریانی زبان ہوگی ہاں جنتیوں کی زبان عربی ہوگی۔ [ابن ابی حاتم]