اس آیت کی تفسیر آیت 18 میں تا آیت 20 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
19-1پھر ہمارا ہی کھا کر ہماری ہی قوم کے ایک آدمی کو قتل کر کے ہماری ناشکری بھی کی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
19۔ نیز تو نے وہ کام کیا جو کر کے چلا گیا اور تو تو ہے ہی ناشکرا [13]
[13] موسیٰؑ اور فرعون کا مکالمہ :۔
فرعون نے اللہ کا پیغام سننے کے بعد اس پیغام کا کچھ جواب دینے کے بجائے وہی کچھ کہنا شروع کر دیا جس کا موسیٰؑ کو پہلے سے خطرہ تھا۔ اس نے کہا کہ بچپن میں تمہاری پرورش ہم نے ہی کی تھی۔ تمہاری جوانی ہمارے درمیان گزری ہے۔ ہم تو تمہاری رگ رگ سے واقف ہیں۔ پھر تم ہمارے مجرم بھی ہو۔ اب تم نے یہ پیغمبری کا ڈھونگ رچا ڈالا ہے اور ہم پر دباؤ ڈالنے آ گئے ہو۔ تمہیں تو ہمارا ممنون احسان ہونا چاہئے تھا تم اٹھ کر رسالت کا دعویٰ کر کے اب ہمیں آنکھیں دکھانے لگے ہو تم جیسا بھی کوئی احسان فراموش شخص ہو سکتا ہے؟ ﴿أَنتَمِنَالْكَافِرِينَ﴾ کا ترجمہ بعضوں نے یوں کیا ہے کہ آج جن لوگوں کو تم کافر کہہ رہے ہو اس پیغمبری کے دعویٰ سے پہلے تو تم خود بھی انہیں جیسے کافر تھے۔ (نعوذ باللہ) فرعون کی اس گفتگو سے ضمناً یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ یہ فرعون وہ فرعون نہیں تھا جس نے حضرت موسیٰؑ کی تربیت کی تھی۔ بلکہ یہ اس کا بیٹا تھا ورنہ ہم نے پرورش کرنے کی بجائے ”میں نے پرورش کی تھی“ کہتا۔ اور یہ تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔