اس آیت کی تفسیر آیت 182 میں تا آیت 184 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
183-1یعنی لوگوں کو دیتے وقت ناپ یا تول میں کمی مت کرو۔ 83-2یعنی اللہ کی نافرمانی مت کرو اس سے زمین میں فساد پھیلتا ہے بعض نے اس سے مراد وہ رہزنی لی ہے جس کا ارتکاب بھی یہ قوم کرتی تھی جیسا کہ دوسرے مقام پر ہے۔ (وَلَاتَقْعُدُوْابِكُلِّصِرَاطٍتُوْعِدُوْنَ) 7۔ الاعراف:86)۔ راستوں میں لوگوں کو ڈرانے کے لیے مت بیٹھو۔ ابن کثیر۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
183۔ اور لوگوں کو ان کی اشیاء کم نہ دیا کرو اور زمین میں فساد [107] نہ مچاتے پھرو۔
[107] یہ لوگ صرف ناپ اور تول میں ہی کمی بیشی نہ کرتے تھے۔ بلکہ تجارتی بد دیانتوں کے سارے سر اور رموز سے اور فریب کاریوں سے واقف تھے۔ عیب دار مال کا عیب چھپا کر فروخت کرنا، جھوٹ بول کر اور جھوٹی قسمیں کھا کر مال بیچنا، ایسا ماحول پیدا کر دینا کہ چیز کا مالک کم سے کم قیمت پر اپنی چیز فروخت کرنے پر مجبور ہو جائے۔ اسی طرح اپنی چیز فروخت کرنے کے لئے ایسا ماحول بنا دینا کہ وہ زیادہ سے زیادہ رقم دینے پر مجبور ہو جائے۔ غرض ہر طریقہ جس سے دوسروں کے حقوق غصب کئے جا سکتے ہوں وہ جانتے تھے۔ اور یہی وہ فساد فی الارض یا شریفانہ قسم کے ڈاکہ زنی ہے۔ جس سے شعیبؑ نے انھیں منع کیا تھا۔ اور انھیں یہ نصیحت فرمائی تھی کہ میرے خیال کے مطابق تو تم سب اچھے بھلے کھاتے پیتے لوگ ہو۔ لہٰذا اگر ایسی بد دیانتیاں چھوڑ دو اور حلال طریقے سے روزی کماؤ تو تمہارے گزارے کے لئے حلال کا رزق بھی بہت کافی ہو سکتا ہے۔ لہٰذا اللہ سے ڈر جاؤ اور لوگوں کے حقوق غصب کرنا چھوڑ دو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔