ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 182

وَ زِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِیۡمِ ﴿۱۸۲﴾ۚ
اور سیدھی ترازو کے ساتھ وزن کرو۔
اور ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو
اور سیدھی صحیح ترازو سے توﻻ کرو

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 181 میں تا آیت 183 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

182-1اسی طرح تول میں ڈنڈی مت مارو بلکہ پورا صحیح تول کردو!

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

182۔ اور سیدھی ترازو سے تولا کرو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ڈنڈی مار قوم ٭٭
حضرت شعیب علیہ السلام اپنی قوم کو ناپ تول درست کرنے کی ہدایت کر رہے ہیں۔ ڈنڈی مارنے اور ناپ تول میں کمی کرنے سے روکتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جب کسی کو کوئی شے ناپ کر دو تو پورا پیمانہ بھر کر دو اس کے حق سے کم نہ کرو۔ اسی طرح دوسرے سے جب لو تو زیادہ لینے کی کوشش اور تدبیر نہ کرو۔ یہ کیا کہ لینے کے وقت پورا لو اور دینے کے وقت کم دو؟ لین دین دونوں صاف اور پورا رکھو۔ ترازو اچھی رکھو جس میں تول صحیح آئے بٹے بھی پورے رکھو تول میں عدل کرو ڈنڈی نہ مارو کم نہ تولو کسی کو اس کی چیز کم نہ دو۔ کسی کی راہ نہ مارو چوری چکاری لوٹ مار غارتگری رہزنی سے بچو لوگوں کو ڈرا دھمکا کر خوفزدہ کر کے ان سے مال نہ لوٹو۔ اس اللہ کے عذابوں کا خوف رکھو جس نے تمہیں اور سب اگلوں کو پیدا کیا ہے۔ جو تمہارے اور تمہارے بڑوں کا رب ہے۔‏‏‏‏
یہی لفظ آیت «وَلَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِيْرًا اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَـعْقِلُوْنَ» ۱؎ [36-يس:62]‏‏‏‏ میں بھی اسی معنی میں ہے۔