(آیت 181تا183) {اَوْفُواالْكَيْلَوَلَاتَكُوْنُوْا …:} ان کی ماپ تول میں کمی بیشی، زمین میں فساد اور رہزنی کا ذکر سورۂ اعراف (۸۵، ۸۶) میں گزر چکا ہے۔ شعیب علیہ السلام کے قصے کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۸۵ تا ۹۳)، ہود (۸۴ تا ۹۵) اور عنکبوت (۳۶، ۳۷) بعض لوگوں نے مدین کے اس بزرگ کو شعیب علیہ السلام قرار دیا ہے جس کے پاس موسیٰ علیہ السلام نے دس سال گزارے تھے، مگر یہ بات بالکل بے اصل ہے، ”مدین“ کے ہر بزرگ کا شعیب علیہ السلام ہونا ضروری نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
181-1یعنی جب تم لوگوں کو ناپ کردو تو اسی طرح پورا دو، جس طرح لیتے وقت تم پورا ناپ کرلیتے ہو۔ لینے اور دینے کے پیمانے الگ الگ مت رکھو، کہ دیتے وقت کم دو اور لیتے وقت پورا لو!
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
181۔ ناپ [106] پورا دیا کرو اور لوگوں کو گھاٹا نہ دیا کرو۔
[106] سیدنا شعیبؑ کی قوم لین دین میں ہیرا پھیری کی مرتکب تھی حضرت شعیبؑ کی قوم دو تجارتی شاہراہوں کے تقاطع یا چوک پر آباد تھی۔ لہٰذا یہ پورے کا پورا علاقہ بڑا بھاری تجارتی مرکز بن گیا تھا۔ شرک اور دوسری اخلاقی برائیوں کے علاوہ ان میں جو سب سے بڑا مرض تھا وہ تجارتی ہیرا پھیری کرنا تھا۔ ناپ تول میں ایسے استاد تھے کہ بھلے بھلوں کے کان کتر دیتے تھے۔ تولتے اس طرح تھے کہ گاہک خواہ سو دفعہ ترازو دیکھتا رہے۔ یہ اس کے دیکھتے دیکھتے ہی تیسرا یا چوتھا حصہ اس کا حق مار جاتے اور جب تول کر یا ناپ کر دینا پڑتا تو ایسی ہی ہاتھ کی صفائی دکھاتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ڈنڈی مار قوم ٭٭
حضرت شعیب علیہ السلام اپنی قوم کو ناپ تول درست کرنے کی ہدایت کر رہے ہیں۔ ڈنڈی مارنے اور ناپ تول میں کمی کرنے سے روکتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ”جب کسی کو کوئی شے ناپ کر دو تو پورا پیمانہ بھر کر دو اس کے حق سے کم نہ کرو۔ اسی طرح دوسرے سے جب لو تو زیادہ لینے کی کوشش اور تدبیر نہ کرو۔ یہ کیا کہ لینے کے وقت پورا لو اور دینے کے وقت کم دو؟ لین دین دونوں صاف اور پورا رکھو۔ ترازو اچھی رکھو جس میں تول صحیح آئے بٹے بھی پورے رکھو تول میں عدل کرو ڈنڈی نہ مارو کم نہ تولو کسی کو اس کی چیز کم نہ دو۔ کسی کی راہ نہ مارو چوری چکاری لوٹ مار غارتگری رہزنی سے بچو لوگوں کو ڈرا دھمکا کر خوفزدہ کر کے ان سے مال نہ لوٹو۔ اس اللہ کے عذابوں کا خوف رکھو جس نے تمہیں اور سب اگلوں کو پیدا کیا ہے۔ جو تمہارے اور تمہارے بڑوں کا رب ہے۔“ یہی لفظ آیت «وَلَقَدْاَضَلَّمِنْكُمْجِبِلًّاكَثِيْرًااَفَلَمْتَكُوْنُوْاتَـعْقِلُوْنَ»۱؎[36-يس:62] میں بھی اسی معنی میں ہے۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔