(آیت 17) { اَنْاَرْسِلْمَعَنَابَنِيْۤاِسْرَآءِيْلَ:} موسیٰ اور ہارون علیھما السلام کو فرعون کی طرف توحید و رسالت کے ساتھ یہ پیغام بھی دے کر بھیجا گیا کہ وہ بنی اسرائیل کو غلامی سے آزاد کر دے اور انھیں ان کے ساتھ ان کے آبا و اجداد کی سرزمین میں جانے دے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
17-1یعنی ایک بات یہ کہو کہ ہم تیرے پاس اپنی مرضی سے نہیں آئے ہیں بلکہ رب العالمین کے نمائندے اور اس کے رسول کی حیثیت سے آئے ہیں اور دوسری بات یہ کہ تو نے (چار سو سال سے) بنی اسرائیل غلام بنا رکھا ہے، ان کو آزاد کر دے تاکہ میں انھیں شام کی سرزمین پر لے جاویں، جس کا اللہ نے وعدہ کیا ہوا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
17۔ (اور اس لئے آئے ہیں کہ) تو بنی اسرائیل کو (آزاد کر کے) ہمارے ساتھ روانہ [12] کر دے“
[12] اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ کا مطالبہ منظور کر لینے کے بعد اور فرعون کی دست درازیوں سے حفاظت کی یقین دہانی کے بعد ان دونوں کو حکم دیا کہ فرعون کے پاس جائیں اور اسے بتائیں کہ ہم رب العالمین کے رسول یا فرستادہ ہیں اگر وہ جھٹلائے تو پھر دو معجزات نشانی کے طور پر اسے دکھائیں اور ساتھ ہی اس سے یہ مطالبہ کر دیں کہ ہماری قوم بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کر کے ہمارے ہمراہ روانہ کر دے۔ چنانچہ ان دونوں پیغمبروں نے اللہ کے اس حکم کے سامنے سر تسلیم خم کیا۔ فرعون کے دربار تک پہنچے اور اسے جوں کا توں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔