ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 160

کَذَّبَتۡ قَوۡمُ لُوۡطِۣ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۱۶۰﴾ۚۖ
لوط کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا۔
(اور قوم) لوط نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا
قوم لوط نے بھی نبیوں کو جھٹلایا

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 161،160) {كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍ المُرْسَلِيْنَ …:} لوط علیہ السلام کے حالات کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۸۰ تا ۸۴)، ہود (۷۷ تا ۸۳)، حجر (۶۱ تا ۷۷)، انبیاء (۷۱ تا ۷۵)، نمل (۵۴ تا ۵۸)، صافات (۱۳۳ تا ۱۳۸) اور قمر (۳۳ تا ۳۹) لوط علیہ السلام ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ اصلاً یہ عراق کے رہنے والے تھے، انھیں جن بستیوں کی طرف مبعوث کیا گیا ان کا صدر مقام سدوم تھا، اس کے رہنے والوں کو لوط کی قوم اس لیے کہا گیا کہ وہ ان میں جا کر آباد ہو گئے تھے۔ ممکن ہے ان کی بیوی بھی انھی میں سے ہو۔ اگلی آیت میں لوط علیہ السلام کو ان کا بھائی اسی مناسبت سے کہا گیا ہے، ورنہ ان کا ان سے نسبی رشتہ نہیں تھا۔ اسی لیے جب ان کی قوم کے بدمعاش ان کے مہمانوں کی بے عزتی پر تل گئے تو انھوں نے کہا: «{ لَوْ اَنَّ لِيْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِيْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِيْدٍ [ھود: ۸۰] کاش! واقعی میرے پاس تمھارے مقابلہ کی کچھ طاقت ہوتی، یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لیتا۔ تفصیل سورۂ اعراف (۸۰ تا ۸۴)، ہود (۷۷ تا ۸۳) اور حجر (۶۱ تا ۷۷) میں دیکھیے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

160-1حضرت لوط علیہ السلام، حضرت ابراہیم ؑ کے بھائی ہارون بن آزر کے بیٹے تھے۔ اور ان کو حضرت ابراہیم ؑ ہی کی زندگی میں نبی بناکر بھیجا گیا تھا۔ ان کی قوم ' سدوم ' اور ' عموریہ ' میں رہتی تھی۔ یہ بستیاں شام کے علاقے میں تھیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

160۔ لوط کی قوم نے (بھی) رسولوں [99] کو جھٹلایا تھا۔
[99] لوطؑ حضرت ابراہیمؑ کے چچا زاد بھائی تھے۔ جب حضرت ابراہیمؑ نے اپنے وطن کو خیرباد کہا تو اس وقت صرف یہی ایک فرد آپ پر ایمان لایا تھا اور آپ کے ہمراہ فلسطین کی طرف ہجرت کی تھی۔ یہیں آپ کو نبوت عطا ہوئی۔ اور حضرت ابراہیمؑ نے آپ کو شرق اردن کی طرف روانہ کر دیا۔ آپ کی تبلیغ کا مرکز سدوم اور اس کے ارد گرد کا علاقہ اور عمورہ کی بستیاں تھیں۔ آپ کی قوم شرک اور دوسری بد اخلاقیوں کے علاوہ لواطت میں گرفتار بلکہ اس بد فعلی کی موجد تھی۔ ان لوگوں پر بھی خاندانی منصوبہ بندی کا بھوت سوار تھا۔ اسی لئے شہوت رانی کے فطری طریق کو چھوڑ کر لونڈے بازی کا فعل شروع کیا پھر یہ لوگ اپنی غیر فطری روش پر نادم نہیں تھے۔ نہ ہی اسے گناہ سمجھتے تھے۔ بلکہ عقلی لحاظ سے اس کے بہت فوائد بتلاتے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

لوط علیہ السلام اور ان کی قوم ٭٭
اب اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول لوط علیہ السلام کا قصہ بیان فرما رہا ہے۔ ان کا نام لوط بن ہاران بن آزر تھا۔ یہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی حیات میں بہت بڑی امت کی طرف بھیجا تھا۔
یہ لوگ سدوم اور اس کے پاس بستے تھے بالآخر یہ بھی اللہ کے عذابوں میں پکڑے گئے سب کے سب ہلاک ہوئے اور ان کی بستیوں کی جگہ ایک جھیل سڑے ہوئے گندے کھاری پانی کی باقی رہ گئی۔ یہ اب تک بھی بلاد غور میں مشہور ہے جو کہ بیت المقدس اور کرک وشوبک کے درمیان ہے۔ ان لوگوں نے بھی رسول اللہ علیہ السلام کی تکذیب کی۔ آپ علیہ السلام نے انہیں اللہ کی معصیت چھوڑنے اور اپنی تابعداری کرنے کی ہدایت کی۔ اپنا رسول ہو کر آنا ظاہر کیا۔ انہیں اللہ کے عذابوں سے ڈرایا اللہ کی باتیں مان لینے کو فرمایا۔ اعلان کر دیا کہ میں تمہارے پیسے ٹکے کا محتاج نہیں۔ میں صرف اللہ کے واسطے تمہاری خیر خواہی کر رہا ہوں، تم اپنے اس خبیث فعل سے باز آؤ یعنی عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے حاجت روائی کرنے سے رک جاؤ لیکن انہیں نے اللہ کے رسول علیہ السلام کی نہ مانی بلکہ ایذائیں پہنچانے لگے۔