ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 157

فَعَقَرُوۡہَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِیۡنَ ﴿۱۵۷﴾ۙ
تو انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں، پھر پشیمان ہوگئے۔
تو انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے
پھر بھی انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ ڈالیں، بس وه پشیمان ہوگئے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 157) ➊ {فَعَقَرُوْهَا:} اللہ تعالیٰ نے یہاں ان سب کے متعلق فرمایا کہ انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں، حالانکہ کونچیں کاٹنے والا صرف ایک شخص قدار تھا، جیسا کہ سورۂ شمس میں ہے: «{ اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا [الشمس: ۱۲] جب اس (قوم) کا سب سے بڑا بدبخت اٹھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے یہ کام پوری قوم کے مشورے اور ان کی فرمائش پر کیا تھا، جیسا کہ سورۂ قمر میں ہے: «{ فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ [القمر: ۲۹] تو انھوں نے اپنے ساتھی کو پکارا، سو اس نے (اسے) پکڑا، پس کونچیں کاٹ دیں۔ اس لیے سبھی مجرم قرار دیے گئے۔
➋ { فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِيْنَ:} سورۂ ہود میں ہے کہ اونٹنی کو قتل کرنے پر صالح علیہ السلام نے انھیں تین دن کی مہلت دی، چنانچہ جب حسبِ وعدہ عذاب کے آثار نمودار ہونے لگے تو وہ ندامت کا اظہار کرنے لگے، مگر وہ وقت ندامت اور توبہ کا نہ تھا۔ (دیکھیے مومن: ۸۵) اور ان کی ندامت رسول کو جھٹلانے پر نہ تھی، بلکہ عذاب میں مبتلا ہونے پر تھی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

157-1یعنی باوجود اس بات کے کہ وہ اونٹنی، اللہ کی قدرت کی ایک نشانی اور پیغمبر کی صداقت کی دلیل تھی، قوم ثمود ایمان نہیں لائی اور کفر و شرک کے راستے پر گامزن رہی اور اس کی سرکشی یہاں تک بڑھی کہ بالآخر قدرت کی زندہ نشانی ' اونٹنی ' کی کوچیں کاٹ ڈالیں یعنی اس کے ہاتھوں پیروں کو زخمی کردیا، جس سے وہ بیٹھ گئی اور پھر اسے قتل کردیا۔ 157-2یہ اس وقت ہوا جب اونٹنی کے قتل کے بعد حضرت صالح ؑ نے کہا کہ اب تمہیں صرف تین دن کی مہلت ہے، چوتھے دن تمہیں ہلاک کردیا جائے گا اس کے بعد جب واقع عذاب کی علامتیں ظاہر ہونی شروع ہوگئیں تو پھر ان کی طرف سے بھی اظہار ندامت ہونے لگا۔ لیکن علامات عذاب دیکھ لینے کے بعد ندامت اور توبہ کا کوئی فائدہ نہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

157۔ مگر ان لوگوں [96] نے اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر (عذاب کے ڈر سے) لگے پچھتانے
[96] لیکن یہ لوگ زیادہ مدت تک اس پابندی کو برداشت نہ کر سکے۔ چوری چھپے باتیں کرتے اور دل ہی دل میں اس پابندی سے کڑھتے رہتے تھے۔ پھر جب ان کے ایمان نہ لانے پر بھی اللہ کا عذاب نہ آیا تو وہ کچھ دلیر ہو گئے۔ ان میں ایک بد کار عورت تھی جس کے بہت سے مویشی تھے اور خاصی مالدار تھی۔ اس نے اپنے آشنا کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ اس اونٹنی کا قصہ پاک کر دے۔ چنانچہ اب اونٹنی کو مار ڈالنے کے سلسلہ میں خفیہ مشورہ ہونے لگے۔ مویشیوں کے لئے پانی اور چارے کے آدھا رہ جانے کی وجہ سے سب لوگ ہی اس اونٹنی سے تنگ آئے ہوئے تھے۔ لہٰذا سب نے ہاں میں ہاں ملا دی۔ چنانچہ وہی بد بخت زانی اس کام کے لئے تیار ہو گیا۔ چنانچہ عبد اللہ بن زمعہؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں حضرت صالحؑ کی اونٹنی کا اور اس شخص کا ذکر کیا جس نے اونٹنی کو زخمی کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ وہ شخص اپنی قوم میں سب سے زیادہ بد بخت تھا۔ وہ ایک زور آور، شریر اور مضبوط شخص تھا جو اپنی قوم میں ابو زمعہ(زبیر بن عوامؓ کے چچا) کی طرح تھا اور اس کا نام قعار تھا۔ [بخاری۔ کتاب التفسیر۔ تفسیر سورۃ الشمس]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔