ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 156

وَ لَا تَمَسُّوۡہَا بِسُوۡٓءٍ فَیَاۡخُذَکُمۡ عَذَابُ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۵۶﴾
اور اسے کسی برائی سے ہاتھ نہ لگانا، ورنہ تمھیں ایک بڑے دن کا عذاب پکڑلے گا۔
اور اس کو کوئی تکلیف نہ دینا (نہیں تو) تم کو سخت عذاب آ پکڑے گا
(خبردار!) اسے برائی سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ ایک بڑے بھاری دن کا عذاب تمہاری گرفت کر لے گا

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 155 میں تا آیت 157 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

156-1دوسری بات انھیں یہ کہی گئی کہ اس اونٹنی کو کوئی بری نیت سے ہاتھ نہ لگائے، نہ اسے نقصان پہنچایا جائے۔ چناچہ یہ اونٹنی اسی طرح ان کے درمیان رہی۔ گھاٹ سے پانی پیتی اور گھاس چارہ کھا کر گزارہ کرتی۔ کہا جاتا ہے کہ قوم ثمود اس کا دودھ دوہتی اور اس سے فائدہ اٹھاتی۔ لیکن کچھ عرصہ گزرنے کے بعد انہوں نے اسے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

156۔ اسے کوئی دکھ نہ پہچانا ورنہ ایک بڑے دن [95] کا عذاب تمہیں آلے گا۔
[95] اونٹنی کے پانی پینے کی باری قوم نے کیوں تسلیم کی؟
عرب جیسے بے آب و گیا ملک میں پانی کی ہمیشہ کمی ہی رہی ہے اور پانی کا مسئلہ نہایت اہم مسئلہ تھا۔ لہٰذا صالحؑ نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک دن صرف یہ اللہ کی اونٹنی فلاں کنوئیں سے پانی پیا کرے گی۔ اس دن قوم کے جانور پانی پینے کے لئے ادھر نہ جائیں اور دوسرے دن قوم کے جانور پانی پیا کریں گے اور اونٹنی ادھر نہیں جائے گی۔ صالحؑ کا یہ فیصلہ اللہ کے حکم کے مطابق تھا۔ جسے قوم نے تسلیم کر لیا۔ مگر اس تسلیم کے پیچھے ان کی اپنی رضا کو کچھ دخل نہ تھا۔ بلکہ وہ یہ فیصلہ تسلیم کرنے پر مجبور تھے۔ اور اس کی دو وجوہ تھیں ایک یہ کہ فیصلہ کے ساتھ ہی صالحؑ نے یہ وارننگ بھی دے دی تھی کہ اگر تم لوگوں نے اس اونٹنی کو کوئی دکھ پہنچایا یا اس کے آزادی سے چرنے چگنے اور پانی پینے میں حائل ہوئے تو تم پر اللہ کا عذاب آ جائے گا اور دوسرے یہ کہ یہ اونٹنی کا معجزہ دیکھنے کے بعد انھیں یہ یقین ہو چکا تھا کہ صالحؑ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ لہٰذا وہ ان پر ایمان لانے کے باوجود ان کی تنبیہ سے خائف تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔