ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 153

قَالُوۡۤا اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِیۡنَ ﴿۱۵۳﴾ۚ
انھوں نے کہا توُ تو انھی لوگوں سے ہے جن پر زبردست جادو کیا گیا ہے۔
وہ کہنے لگے کہ تم تو جادو زدہ ہو
وه بولے کہ بس تو ان میں سے ہے جن پر جادو کردیا گیا ہے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 153) {قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِيْنَ: مَسْحُوْرِيْنَ} جن پر جادو کیا گیا ہو۔ { الْمُسَحَّرِيْنَ} باب تفعیل سے ہے، اس میں مبالغہ ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے تو تو انھی لوگوں سے ہے جن پر زبردست جادو کیا گیا ہے۔ جب وہ لوگ صالح علیہ السلام کی دعوت پر کوئی اعتراض نہ کر سکے تو عامۃ الناس کو بے وقوف بنانے کے لیے کہنے لگے، زبردست جادو کی وجہ سے تیری عقل ماری گئی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

153۔ وہ کہنے لگے: ”تم تو ایک سحر زدہ [93] آدمی ہو
[93] حضرت صالحؑ کی دعوت پر جب چند کمزور قسم کے لوگ ایمان لے آئے۔ تو چودھری لوگ حضرت صالحؑ کا مذاق اڑانے لگے کہ ان لوگوں کے سہارے تم انقلاب لانا چاہتے ہو؟ کیا تمہاری عقل تو جواب نہیں دے گئی۔ معلوم ہوتا ہے کہ تم پر کسی نے جادو کر دیا ہے جو ایسی بہکی بہکی باتیں کرنے لگے ہو۔ پھر جب صالحؑ کے پیروکاروں میں کچھ مزید اضافہ ہو گیا۔ تو چودھریوں کو کچھ فکر لاحق ہونے لگی اور ان کا انداز کلام بھی بدل گیا۔ کہنے لگے: تم بھی ہمارے ہی جیسے آدمی ہو آخر تم میں وہ کون سی زائد خوبی ہے کہ ہم تجھے اللہ کا رسول تسلیم کر لیں۔ ہاں اگر تم واقعی اپنے دعویٰ میں سچے ہو تو کوئی نشانی پیش کرو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

نبی کا اپنے آپ سے تقابل ٭٭
ثمودیوں نے اپنے نبی کو جواب دیا کہ تجھ پر تو کسی نے جادو کر دیا ہے گو ایک معنی یہ بھی کئے گئے کہ تو مخلوق میں سے ہے اور اس کی دلیل میں عربی کا ایک شعر بھی پیش کیا جاتا ہے لیکن ظاہر معنی پہلے ہی ہیں۔
اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ تو تو ہم جیسا ایک انسان ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم میں سے تو کسی پر وحی نہ آئے اور تجھ پر آ جائے کچھ نہیں یہ صرف بناوٹ ہے ایک خود ساختہ ڈرامہ ہے محض جھوٹ اور صاف طوفان ہے اچھا ہم کہتے ہیں اگر تو واقعی سچا نبی ہے تو کوئی معجزہ دکھا اس وقت ان کے چھوٹے بڑے سب جمع تھے اور یک زبان ہو کر سب نے معجزہ طلب کیا تھا۔
آپ علیہ السلام نے پوچھا تم کیا معجزہ دیکھانا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا یہ سامنے جو پتھر کی بڑی ساری چٹان ہے یہ ہمارے دیکھتے ہوئے پھٹے اور اس میں سے ایک گابھن اونٹنی اس اس رنگ کی اور ایسی ایسی نکلے۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا اچھا اگر میں رب سے دعا کروں اور وہ یہی معجزہ میرے ہاتھوں تمہیں دکھا دے پھر تو تمہیں میری نبوت کے ماننے میں کوئی عذر نہ ہو گا؟ سب نے پختہ وعدہ کیا قول قرار کیا کہ ہم سب ایمان لائیں گے اور آپ کی نبوت مان لیں گے۔ آپ علیہ السلام بہت جلد یہ معجزہ دکھائیں۔
آپ علیہ السلام نے اسی وقت نماز شروع کر دی پھر اللہ عزوجل سے دعا کی اسی وقت وہ پتھر پھٹا اور اسی طرح کی ایک اونٹنی ان کے دیکھتے ہوئے اس میں سے نکلی۔ کچھ لوگ تو حسب اقرار مومن ہو گئے لیکن اکثر لوگ پھر بھی کافر کے کافر رہے۔
آپ علیہ السلام نے کہا سنو ایک دن یہ پانی پئے گی اور ایک دن پانی کی باری تمہاری مقرر رہے گی۔ اب تم میں سے کوئی اسے برائی نہ پہنچائے ورنہ بدترین عذاب تم پر اتر پڑے گا۔‏‏‏‏ ایک عرصے تک تو وہ رکے رہے۔ اونٹنی ان میں رہی چارہ چگتی اور اپنی باری والے دن پانی پیتی۔ اس دن یہ لوگ اس کے دودھ سے سیر ہو جاتے۔
لیکن ایک مدت کے بعد ان کی بدبختی نے انہیں آ گھیرا۔ ان میں سے ایک ملعون نے اونٹنی کے مار ڈالنے کا ارادہ کیا اور کل اہل شہر اس کے موافق ہو گئے چنانچہ اس کی کوچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا۔ جس کے نتیجے میں انہیں سخت ندامت اور پیشمانی اٹھانی پڑی اللہ کے عذاب نے انہیں اچانک آ دبوچا۔ ان کی زمین ہلا دی گئیں اور ایک چیخ سے سب کے سب ہلاک کر دئیے گئے۔ دل اڑ گئے کلیجے پاش پاش ہو گئے اور وہم گمان بھی جس چیز کا نہ تھا وہ آن پڑا۔ اور تا آخر سب غارت ہو گئے اور دنیا جہاں کے لیے یہ خوفناک واقعہ عبرت افزا ہو گیا۔ اتنی بڑی نشانی اپنی آنکھوں دیکھ کر بھی ان میں سے اکثر لوگوں کو ایمان لانا نصیب نہ ہوا اسمیں کچھ شک نہیں کہ اللہ غالب ہے اور رحیم بھی ہے۔