(آیت 152،151) {وَلَاتُطِيْعُوْۤااَمْرَالْمُسْرِفِيْنَ …:} یعنی ان لوگوں کا کہنا مت مانو جو اخلاق و تہذیب کی ساری حدیں پھلانگ کر شتر بے مہار بن گئے ہیں۔ مراد ان کے وہ سردار اور امراء ہیں جو شرک و کفر کے داعی اور حق کی مخالفت میں پیش پیش تھے اور جن کی زیرِ قیادت ان کا بگڑا ہوا نظامِ زندگی چل رہا تھا، ایسے لوگ ہمیشہ زمین میں فساد ہی پھیلاتے ہیں، ان کے ہاتھوں اصلاح کبھی نہیں ہو سکتی۔ قرآن مجید کے دوسرے مقام سے معلوم ہوتا ہے کہ ان {”الْمُسْرِفِيْنَ“} میں سب سے پیش پیش وہ نو (۹) بدمعاش تھے جنھوں نے ملک میں فساد مچا رکھا تھا اور آخر کار قوم کی تباہی کا سبب بنے، فرمایا: «{ وَكَانَفِيالْمَدِيْنَةِتِسْعَةُرَهْطٍيُّفْسِدُوْنَفِيالْاَرْضِوَلَايُصْلِحُوْنَ }»[النمل: ۴۸]”اور اس شہر میں نو(۹) شخص تھے، جو اس سرزمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
151-1مُسْرِفِیْنَ سے مراد وہ رؤسا اور سردار ہیں جو کفر و شرک کے داعی اور مخالفت میں پیش پیش تھے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
151۔ اور حد سے آگے گزرنے والوں کی بات [92] نہ مانو
[92] حضرت صالحؑ کا یہ خطاب نچلے طبقہ کے لوگوں سے تھا جو تعداد میں زیادہ مگر چودھری ٹائپ لوگوں کے زیر نگیں ہوتے ہیں اور عموماً یہی لوگ انبیاء کی دعوت پر توجہ دیتے ہیں۔ کیونکہ یہ چودھریوں کے مظالم سے تنگ آئے ہوتے ہیں۔ آپ نے انھیں سمجھایا کہ اپنے ان چودھریوں اور رئیسوں کی اطاعت چھوڑ دو۔ کیونکہ یہ مُسرف لوگ ہیں جو اخلاق کی ساری حدیں پھلانگ کر شتر بے مہار بن چکے ہیں۔ ان کے ہاتھوں خیر اور بھلائی یا معاشرتی بگاڑ کی اصلاح کبھی نہیں ہو سکتی۔ تمہارے لئے ان لوگوں سے نجات حاصل کرنے کا صرف یہی طریقہ ہے کہ اپنے اندر اللہ کا خوف اور تقویٰ پیدا کرو اور ان کی اطاعت کے بجائے میری اطاعت کرو۔ کیونکہ میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ کے بتلائے ہوئے طریقے سے ہی تمہاری اخلاقی، تمدنی اور سیاسی اصلاح ممکن ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔