اَتُتۡرَکُوۡنَ فِیۡ مَا ہٰہُنَاۤ اٰمِنِیۡنَ ﴿۱۴۶﴾ۙ
کیا تم ان چیزوں میں جو یہاں ہیں، بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے۔
کیا وہ چیزیں (تمہیں یہاں میسر) ہیں ان میں تم بےخوف چھوڑ دیئے جاؤ گے
کیا ان چیزوں میں جو یہاں ہیں تم امن کے ساتھ چھوڑ دیے جاؤ گے
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 146تا150) ➊ { اَتُتْرَكُوْنَ فِيْ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيْنَ …:} قومِ عاد کی طرح یہ لوگ بھی اللہ کی عبادت سے کنارہ کش ہو چکے تھے، بتوں کے پجاری اور قیامت کے منکر تھے، جس کے نتیجے میں ان کی ساری تگ و دو دنیا کی آسائشوں کے حصول اور عیش پرستی تک محدود تھی، آخرت کی فکر اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کے احساس سے یکسر عاری تھے، ان کے بدترین اور مفسد لوگ ان کے سردار اور راہ نما بنے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف صالح علیہ السلام کو بھیجا، جنھوں نے اوپر والی آیات کے مطابق انھیں اللہ سے ڈرنے اور اپنے رسول کی اطاعت کرنے کی تلقین فرمائی اور بتایا کہ وہ ان سے کسی بھی قسم کی مالی منفعت کے طلب گار نہیں ہیں۔ اس کے بعد انھیں اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلا کر اور اس کے عذاب سے ڈرا کر نصیحت فرمائی۔ قومِ ثمود کی آبادی حجر کے علاقہ میں تھی، جو مدینہ منورہ اور تبوک کے درمیان واقع ہے اور آج کل اسے ”مدائن صالح “ کہا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کو جاتے ہوئے یہاں سے گزرے تھے، اس کی تفصیل سورۂ اعراف (۷۳) میں دیکھیے۔ یعنی یہاں دنیا کے اندر اپنے علاقے میں جو تم امن سے رہ رہے ہو، کسی دشمن کا خوف نہیں، ضرورت کی ہر چیز تمھیں میسر ہے اور راحت و آرام کے تمام اسباب بھی، تو کیا تمھیں ان باغوں چشموں، کھیتوں کے نرم و نازک خوشوں والے درختوں اور پہاڑوں کو تراش کر نہایت مہارت کے ساتھ بنائی پائیدار اور خوبصورت عمارتوں میں ہمیشہ رہنے دیا جائے گا؟ جب یہ طے شدہ ہے کہ ایسا نہیں ہو گا، بلکہ ہر حال میں تمھیں مالک کے سامنے پیش ہو کر جواب دہ ہونا ہے، تو اللہ سے ڈرو اور اس سوال کا جواب سوچ لو کہ اس کا دیا کھاتے ہو اور دوسرے کے گن گاتے ہو اور میری اطاعت کرو، کیونکہ اس نے مجھے تمھاری ہدایت کے لیے بھیجا ہے۔
➋ { وَ تَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ …:} عاد کے تمدن کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ اونچے ستونوں والی عمارتیں بناتے تھے، جب کہ ثمود کے تمدن کی سب سے نمایاں خصوصیت، جس کی بنا پر وہ مشہور تھے، یہ تھی کہ وہ پہاڑوں کو تراش تراش کر ان کے اندر عمارتیں بناتے تھے۔ چنانچہ سورۂ فجر (۷) میں عاد کو {” ذَاتِ الْعِمَادِ“} (ستونوں والے) کہا گیا ہے اور ثمود کے متعلق فرمایا: «{الَّذِيْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ}» [الفجر: ۹] ”جنھوں نے وادی میں چٹانوں کو تراشا۔“ اس کے علاوہ وہ اپنے میدانی علاقوں میں بھی بڑے بڑے محل تعمیر کرتے تھے، فرمایا: «{ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا }» [الأعراف: ۷۴] ”تم اس کے میدانوں میں محل بناتے ہو۔“ ان تعمیرات سے ان کی غرض و غایت اپنی شان و شوکت، مہارت اور کمال فن کی نمائش تھی، نہ کہ کوئی حقیقی ضرورت۔ بگڑے ہوئے معاشروں کا یہی حال ہوتا ہے کہ ایک طرف لوگوں کو سر چھپانے کے لیے جگہ نہیں ملتی تو دوسری طرف امراء اور اہلِ ثروت کمزوروں کی مدد کے بجائے اپنی ضرورت سے زیادہ عمارتیں بنانے کے بعد بلاضرورت نمائشی یادگاریں تعمیر کرنے لگتے ہیں۔
تفہیم القرآن میں ہے: ”ثمود کی ان عمارات میں سے کچھ اب بھی باقی ہیں، جنھیں ۱۹۵۹ء کے دسمبر میں میں نے خود دیکھا ہے۔ یہ جگہ مدینہ اور تبوک کے درمیان حجاز کے مشہور مقام ”العلاء“ (جسے عہد نبوی میں وادی القریٰ کہا جاتا تھا) سے چند میل کے فاصلے پر بجانب شمال واقع ہے۔ آج بھی اس جگہ کو مقامی باشندے الحجر اور مدائن صالح کے ناموں ہی سے یاد کرتے ہیں۔ اس علاقے میں ”العلاء“ تو اب بھی نہایت سر سبز و شاداب وادی ہے، جس میں کثرت سے چشمے اور باغات ہیں، مگر ”الحجر“ کے گرد و پیش بڑی نحوست پائی جاتی ہے، آبادی برائے نام ہے، روئیدگی بہت کم ہے، چند کنویں ہیں، انھی میں سے ایک کنویں کے متعلق مقامی آبادی میں یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ صالح علیہ السلام کی اونٹنی اسی سے پانی پیتی تھی۔ اب وہ ترکی عہد کی ایک ویران چھوٹی سی چوکی کے اندر پایا جاتا ہے اور بالکل خشک پڑا ہے۔ اس علاقے میں جب ہم داخل ہوئے تو ”العلاء“ کے قریب پہنچتے ہی ہر طرف ایسے پہاڑ نظر آئے جو بالکل کھیل کھیل ہو گئے ہیں، صاف محسوس ہوتا تھا کہ کسی سخت ہولناک زلزلے نے انھیں سطح زمین سے چوٹی تک جھنجھوڑ کر قاش قاش کر رکھا ہے۔ اسی طرح کے پہاڑ ہمیں مشرق کی طرف ”العلاء“ سے خیبر جاتے ہوئے تقریباً پچاس (۵۰) میل تک اور شمال کی طرف ریاست اردن کے حدود میں ۳۰، ۴۰ میل کے اندر ملتے چلے گئے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ تین چار سو میل لمبا اور سو میل چوڑا ایک علاقہ تھا جسے ایک زلزلہ عظیم نے ہلا کر رکھ دیا تھا۔“
➋ { وَ تَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ …:} عاد کے تمدن کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ اونچے ستونوں والی عمارتیں بناتے تھے، جب کہ ثمود کے تمدن کی سب سے نمایاں خصوصیت، جس کی بنا پر وہ مشہور تھے، یہ تھی کہ وہ پہاڑوں کو تراش تراش کر ان کے اندر عمارتیں بناتے تھے۔ چنانچہ سورۂ فجر (۷) میں عاد کو {” ذَاتِ الْعِمَادِ“} (ستونوں والے) کہا گیا ہے اور ثمود کے متعلق فرمایا: «{الَّذِيْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ}» [الفجر: ۹] ”جنھوں نے وادی میں چٹانوں کو تراشا۔“ اس کے علاوہ وہ اپنے میدانی علاقوں میں بھی بڑے بڑے محل تعمیر کرتے تھے، فرمایا: «{ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا }» [الأعراف: ۷۴] ”تم اس کے میدانوں میں محل بناتے ہو۔“ ان تعمیرات سے ان کی غرض و غایت اپنی شان و شوکت، مہارت اور کمال فن کی نمائش تھی، نہ کہ کوئی حقیقی ضرورت۔ بگڑے ہوئے معاشروں کا یہی حال ہوتا ہے کہ ایک طرف لوگوں کو سر چھپانے کے لیے جگہ نہیں ملتی تو دوسری طرف امراء اور اہلِ ثروت کمزوروں کی مدد کے بجائے اپنی ضرورت سے زیادہ عمارتیں بنانے کے بعد بلاضرورت نمائشی یادگاریں تعمیر کرنے لگتے ہیں۔
تفہیم القرآن میں ہے: ”ثمود کی ان عمارات میں سے کچھ اب بھی باقی ہیں، جنھیں ۱۹۵۹ء کے دسمبر میں میں نے خود دیکھا ہے۔ یہ جگہ مدینہ اور تبوک کے درمیان حجاز کے مشہور مقام ”العلاء“ (جسے عہد نبوی میں وادی القریٰ کہا جاتا تھا) سے چند میل کے فاصلے پر بجانب شمال واقع ہے۔ آج بھی اس جگہ کو مقامی باشندے الحجر اور مدائن صالح کے ناموں ہی سے یاد کرتے ہیں۔ اس علاقے میں ”العلاء“ تو اب بھی نہایت سر سبز و شاداب وادی ہے، جس میں کثرت سے چشمے اور باغات ہیں، مگر ”الحجر“ کے گرد و پیش بڑی نحوست پائی جاتی ہے، آبادی برائے نام ہے، روئیدگی بہت کم ہے، چند کنویں ہیں، انھی میں سے ایک کنویں کے متعلق مقامی آبادی میں یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ صالح علیہ السلام کی اونٹنی اسی سے پانی پیتی تھی۔ اب وہ ترکی عہد کی ایک ویران چھوٹی سی چوکی کے اندر پایا جاتا ہے اور بالکل خشک پڑا ہے۔ اس علاقے میں جب ہم داخل ہوئے تو ”العلاء“ کے قریب پہنچتے ہی ہر طرف ایسے پہاڑ نظر آئے جو بالکل کھیل کھیل ہو گئے ہیں، صاف محسوس ہوتا تھا کہ کسی سخت ہولناک زلزلے نے انھیں سطح زمین سے چوٹی تک جھنجھوڑ کر قاش قاش کر رکھا ہے۔ اسی طرح کے پہاڑ ہمیں مشرق کی طرف ”العلاء“ سے خیبر جاتے ہوئے تقریباً پچاس (۵۰) میل تک اور شمال کی طرف ریاست اردن کے حدود میں ۳۰، ۴۰ میل کے اندر ملتے چلے گئے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ تین چار سو میل لمبا اور سو میل چوڑا ایک علاقہ تھا جسے ایک زلزلہ عظیم نے ہلا کر رکھ دیا تھا۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
146-1یعنی یہ نعمتیں کیا تمہیں ہمیشہ حاصل رہیں گی، نہ تمہیں موت آئے گی نہ عذاب؟ استفہام انکاری اور توبیخی ہے یعنی ایسا نہیں ہوگا بلکہ عذاب یا موت کے ذریعے سے، جب اللہ چاہے گا، تم ان نعمتوں سے محروم ہوجاؤ گے اس میں ترغیب ہے کہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو اور اس پر ایمان لاؤ اور اگر ایمان و شکر کا راستہ اختیار نہیں کیا تو پھر تباہی و بربادی تمہارا مقدر ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
146۔ کیا تم یہاں کے سامان (عیش و عشرت) میں امن [91] سے رہنے کے لئے چھوڑ دیئے جاؤ گے؟
[91] سیدنا صالحؑ کی اپنی قوم کو تبلیغ:۔
قوم ثمود کا یہ علاقہ پہاڑیوں کے دامن میں واقع تھا۔ وادیاں زرخیز تھیں۔ جا بجا میٹھے پانی کے چشمے موجود تھے۔ کھیتیاں اور باغات بکثرت تھے۔ جن میں طرح طرح کے پھل اور اعلیٰ قسم کی کھجور پیدا ہوتی تھی۔ اور پہاڑوں کو تراش کر جو وہ مکان بناتے تھے تو وہ محض ضرورت رہائش پوری کرنے کے لئے نہیں بناتے تھے بلکہ خوبصورت سے خوبصورت اور اعلیٰ سے اعلیٰ مکان بنانے میں ہر کوئی ایک دوسرے پر سبقت لے جانا چاہتا تھا اور اس سے ان کا مقصد اپنے ٹھاٹھ باٹھ اور شان و شوکت کا مظاہرہ کرنا ہوتا تھا۔ حضرت صالحؑ نے ان سے پوچھا، تمہارا کیا خیال ہے کہ تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی جو اس قدر دنیا پر ریجھ گئے ہو اور اپنے پروردگار کو بالکل فراموش کر دیا ہے؟ اللہ نے اگر تمہیں یہ نعمتیں دی ہیں تو اس کی ناشکری کی بنا پر وہ تم سے چھین بھی سکتا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ اور اس کی گرفت سے ڈرتے رہو اور اگر انجام بخیر چاہتے ہو تو میرے بتلائے ہوئے راستہ پر عمل کرو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
صالح علیہ السلام کی باغی قوم ٭٭
حضرت صالح علیہ السلام اپنی قوم میں وعظ فرما رہے ہیں انہیں اللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں اور اس کے عذابوں سے متنبہ فرما رہے ہیں کہ ”وہ اللہ جو تمہیں یہ کشادہ روزیاں دے رہا ہے جس نے تمہارے لیے باغات اور چشمے کھیتیاں اور پھل پھول مہیا فرمادئیے ہیں امن چین سے تمہاری زندگی کے ایام پورے کر رہے ہیں تم اس کی نافرمانیاں کرکے انہی نعمتوں میں اور اسی امن وامان میں نہیں چھوڑے جا سکتے۔ ان باغات اور ان دریاؤں میں ان کھیتوں میں ان کھجوروں کے باغات میں جن کے خوشے کھجوروں کی زیادتی کے مارے بوجھل ہو رہے ہیں اور جھکے پڑتے ہیں جن میں تہہ بہ تہہ تر کجھوریں بھرپور لگ رہی ہیں جو نرم خوش نما میٹھی اور خوش ذائقہ کجھوروں سے لدی ہوئے ہیں تم اللہ کی نافرمانیاں کر کے ان کو بہ آرام ہضم نہیں کر سکتے۔ اللہ نے تمہیں اس وقت جن مضبوط اور پرتکلف بلند اور عمدہ گھروں میں رکھ چھوڑا ہے اللہ کی توحید اور میری رسالت سے انکار کے بعد یہ بھی قائم نہیں رہ سکتے۔ افسوس تم اللہ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتے اپنا وقت اپنا روپیہ بیجا برباد کر کے یہ نقش و نگار والے مکانات پہاڑوں میں بہ تصنع وتکلف صرف بڑائی اور ریاکاری کیلئے اپنی عظمت اور قوت کے مظاہرے کیلے تراش رہے ہو جس میں کوئی نفع نہیں بلکہ اس کا وبال تمہارے سروں پر منڈلا رہا ہے پس تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہیئے اور میری اتباع کرنی چاہیئے اپنے خالق رازق منعم محسن کی عبادت اور اس کی فرمانبرداری اور اس کی توحید کی طرف پوری طرح متوجہ ہو جانا چاہیئے۔ جس کا نفع تمہیں اپنے دنیا اور آخرت میں ملے تمہیں اس کا شکر ادا کرنا چاہیئے اس کی تسبیح وتہلیل کرنی چاہئیے صبح و شام اس کی عبادت کرنی چاہیئے تمہیں اپنے ان موجودہ سردارں کی ہرگز نہ ماننی چاہیئے یہ تو حدود اللہ سے تجاوز کر گئے، توحید کو، اتباع کو بھلا بیٹھے ہیں۔ زمین میں فسادپھیلا رہے ہیں نافرمانی، گناہ، فسق وفجور پر خود لگے ہوئے ہیں اور دوسروں کو بھی اسی کی طرف بلا رہے ہیں اور حق کی موافقت اور اتباع کر کے اصلاح کی کوشش نہیں کرتے۔“