(آیت 141تا145) ➊ {كَذَّبَتْثَمُوْدُالْمُرْسَلِيْنَ …:} ثمود اور صالح علیھما السلام کا قصہ اس سے پہلے سورۂ اعراف (۷۳ تا ۷۹)، ہود (۶۱ تا ۶۸)، حجر (۸۰ تا ۸۴) اور بنی اسرائیل (۵۹) میں گزر چکا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ نمل (۴۵ تا ۵۳)، ذاریات (۴۳ تا ۴۵)، قمر (۲۳ تا ۳۱)، فجر (۹) اور شمس (۱۱)۔ ➋ { اِنِّيْلَكُمْرَسُوْلٌاَمِيْنٌ:} صالح علیہ السلام کی قوم بھی ان کی امانت و دیانت اور غیر معمولی قابلیت کو مانتی تھی۔ (دیکھیے ہود: ۶۲) قوم کا انھیں {”اِنَّمَااَنْتَمِنَالْمُسَحَّرِيْنَ“} کہنے سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ نبوت کے اعلان سے پہلے وہ ان کے نزدیک نہایت سمجھ دار اور عقل مند تھے اور ان کی حالت کی تبدیلی ان کے خیال سے جادو کا نتیجہ تھی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
141-1ثمود کا مسکن حضر تھا جو حجاز کے شمال میں ہے، آجکل اسے مدائن صالح کہتے ہیں۔ (ایسر التفاسیر) یہ عرب تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تبوک جاتے ہوئے ان بستیوں سے گزر کر گئے تھے، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
141۔ قوم ثمود [89] نے بھی رسولوں کو جھٹلایا۔
[89] قوم ثمود کا مسکن اور خصائل:۔
قوم عاد اولیٰ کے بعد یہی قوم ثمود، جسے عاد ثانیہ بھی کہتے ہیں، نامور ہوئی۔ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قوم موسیٰ کا ذکر فرمایا، پھر قوم ابراہیم کا، پھر قوم نوح کا، پھر قوم عاد اولیٰ کا اور پانچویں نمبر پر قوم عاد ثانیہ کا ذکر ہے۔ اس قوم کے مسکن کو الحجر بھی کہا جاتا ہے۔ یہ تین چار سو کلومیٹر لمبا اور تقریباً سو کلومیٹر چوڑا علاقہ حجاز اور شام کے درمیان واقع ہے اور اس راستہ پر واقع ہے جو مدینہ سے تبوک جاتا ہے۔ اس قوم کے رنگ ڈھنگ تقریباً وہی تھے جو عاد اولیٰ کے تھے۔ اسی طرح کے تنو مند اور قد آور اور مضبوط جسموں کے مالک تھے۔ اللہ تعالیٰ کی ہستی کے قائل ضرور تھے مگر شرک کی امراض میں بری طرح مبتلا تھے۔ بڑی متکبر اور سرکش قوم تھی۔ ان کی نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اعلیٰ درجہ کے انجینئر اور بہترین قسم کے سنگ تراش تھے۔ وہ اپنے فن کا مظاہرہ یوں کرتے کہ پہاڑوں میں پتھر تراش تراش کر اپنے عالیٰ شان مکان بنا لیتے تھے۔ اسی طرح پہاڑوں کے اندر ہی اندر انہوں نے بستیوں کی بستیاں آباد کر رکھی تھیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
صالح علیہ السلام اور قوم ثمود ٭٭
اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول صالح علیہ السلام کا واقعہ بیان ہو رہا کہ آپ علیہ السلام اپنی قوم ثمود کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یہ لوگ عرب حجر نامی شہر میں رہتے تھے جو وادی القری اور ملک شام کے درمیان ہے۔ یہ عادیوں کے بعد اور ابراہمیوں سے پہلے تھے شام کی طرف جاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس جگہ سے گزرنے کا بیان سورۃ الاعراف کی تفسیر میں پہلے گزر چکا ہے۔ انہیں ان کے نبی علیہ السلام نے اللہ کی طرف بلایا کہ یہ اللہ کی توحید کو مانیں اور صالح علیہ السلام کی رسالت کا اقرار کریں لیکن انہوں نے بھی انکار کر دیا اور اپنے کفر پر جمے رہے اللہ کے پیغمبر علیہ السلام کو جھوٹا کہا۔ باوجود اللہ سے ڈرتے رہنے کی نصیحت سننے کی پرہیزگاری اختیار نہ کی۔ باوجود رسول امین کی موجودگی کے راہ ہدایت اختیار نہ کی۔ حالانکہ نبی کا صاف اعلان تھا کہ ”میں اپنا کوئی بوجھ تم پر ڈال نہیں رہا میں تو رسالت کی تبلیغ کے اجرا کا صرف اللہ تعالیٰ سے خواہاں ہوں۔“ اس کے بعد اللہ کی نعمتیں انہیں یاد دلائیں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔