(آیت 132تا134) {وَاتَّقُواالَّذِيْۤاَمَدَّكُمْبِمَاتَعْلَمُوْنَ …:} نصیحت کرتے ہوئے ہود علیہ السلام نے انھیں اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلا کر تیسری بار پھر اس سے ڈرایا۔ پہلی آیت میں مجمل طور پر نعمتیں ذکر فرمائیں، پھر مفصل طریقے سے بیان کیں، یعنی سوچو جس مالک نے تمھیں اتنی نعمتیں عطا فرمائیں وہ انھیں چھین بھی سکتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
132۔ اور اس ذات سے ڈرو جس نے تمہیں وہ سب کچھ دیا ہے جو تم جانتے [84۔ 1] ہو
[84۔ 1] بعض حضرات نے اس جملہ میں ما کو نافیہ قرار دیا ہے اور ترجمہ یوں کیا ہے کہ اس ذات سے ڈرو جس نے تمہاری ان چیزوں سے مدد کی جن کا تمہیں علم نہیں۔ یعنی تم ان چیزوں کو اللہ کی امداد سمجھتے ہی نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اگلی دو آیات میں ان نعمتوں کا ذکر خود ہی کر دیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔