ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 130

وَ اِذَا بَطَشۡتُمۡ بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِیۡنَ ﴿۱۳۰﴾ۚ
اور جب تم پکڑتے ہو تو بہت بے رحم ہو کر پکڑتے ہو۔
اور جب (کسی کو) پکڑتے ہو تو ظالمانہ پکڑتے ہو
اور جب کسی پر ہاتھ، ڈالتے ہو تو سختی اور ﻇلم سے پکڑتے ہو

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 130) {وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِيْنَ:} یہ ان کا تیسرا کام ہے جس پر ہود علیہ السلام نے انکار فرمایا کہ تم ایسے سنگدل اور انسانیت سے عاری ہو کہ کمزوروں کے لیے تمھارے دل میں کوئی رحم نہیں، وہ گرد و پیش کی کمزور قومیں ہوں یا تمھارے پست طبقہ کے لوگ، جب انھیں پکڑتے ہو تو بہت بے رحم ہو کر پکڑتے ہو، دنیا کے لالچ اور تکبر نے انسانی اخلاق کا لباس تمھارے جسموں سے اتار دیا ہے۔ اس کا باعث بھی یہی تھا کہ ان کا اللہ کی توحید اوریوم آخرت پر ایمان نہ تھا۔ ایمان سنگدلی کی اجازت نہیں دیتا۔ مومن قتل کرتے وقت بھی سنگدلی سے کام نہیں لیتا۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ أَعَفَّ النَّاسِ قِتْلَةً أَهْلُ الْإِيْمَانِ] [مسند أحمد: 393/1، ح: ۳۷۲۸، قال المحقق حدیث حسن] یقینا قتل کرنے میں سب لوگوں سے زیادہ اچھا طریقہ اختیار کرنے والے اہل ایمان ہوتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

130-1یہ ان کے ظلم و تشدد اور قوت و طاقت کی طرف اشارہ ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

130۔ اور جب کسی [83] پر ہاتھ ڈالتے ہو تو جبار بن کر ڈالتے ہو۔
[83] یادگاریں تعمیر کرنا قوم عاد کا طریقہ اور عبث کا کام ہے :۔
اس قوم کے تین افعال کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا جن میں سے پہلے دو فن تعمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ پہلی یہ کہ یہ لوگ یادگاریں بہت زیادہ تعمیر کرتے جن کا عملی طور پر کوئی فائدہ نہ ہوتا تھا۔ کسی نے اپنی یادگار میں شاندار مقبرہ تعمیر کرا لیا۔ کسی نے کوئی اونچا مینار بنایا۔ تو کسی نے کوئی بارہ دری تعمیر کرا دی۔ جیسے اہرام مصر ہیں یا روضہ تاج محل اور اسی طرح کی دوسری یادگاریں آج کل بھی پائی جاتی ہیں اور ان سے مقصود صرف ناموری یا نمود و نمائش ہوتا تھا۔ تعبثون سے بعض لوگوں نے مراد کھیل تماشا ہی لیا ہے۔ یعنی وہ ایسی بلند عمارتوں کو اوپر چڑھ کر کبوتر بازی اور پرندوں وغیرہ کا شکار بھی کیا کرتے تھے۔ دوسری قابل ذکر چیز یہ ہے کہ وہ اپنے رہائشی گھر بھی بہت اونچے، شاندار اور مضبوط بناتے تھے فلک بوس عمارتیں کھڑی کرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ ان کی ضرورت بھی تھی۔ ان کے قد بھی بہت لمبے ہوتے تھے اور عمریں بھی بہت دراز ہوتی تھیں اور اگر وہ معمولی قسم کا میٹریل عمارتوں میں استعمال کرتے وہ میٹریل ان کی زندگی میں ساتھ نہیں دیتا تھا اس صورت میں ہر شخص کو اپنی زندگی میں کئی بار مکان بنانے کی ضرورت پیش آسکتی تھی۔ قرآن نے ان کی اس عادت پر سخت نكير فرمائی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مکانوں کی تعمیر میں مضبوطی اور بلندی میں بہت مبالغہ سے کام لیتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ شاندار تا ابد انھیں ان مکانات میں رہنا ہے۔ جب یہ قوم اللہ کے عذاب سے تباہ ہوئی تو بعد میں ان کی یہ مضبوط عمارتیں بھی کھنڈرات میں تبدیل ہو گئیں اور آج وہ کھنڈرات بھی معدوم ہو چکے ہیں۔ ان لوگوں کی آسودہ حالی، عالیشان عمارات اور جسمانی مضبوطی اور توانائی نے انھیں انتہائی متکبر بنا دیا تھا۔ انصاف اور نرمی کا برتاؤ ان کی سرشت سے معدوم ہو چکا تھا۔ وہ دوسروں کے حقوق غصب کرنے میں بہت دلیر اور جری تھے۔ اپنے معاشرہ کے بھی کمزور اور ضعیف طبقہ پر بھی ظلم و ستم ڈھاتے تھے اور آس پاس کے علاقوں میں بھی ان کا رویہ جابرانہ اور قاہرانہ ہوتا تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔