ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 13

وَ یَضِیۡقُ صَدۡرِیۡ وَ لَا یَنۡطَلِقُ لِسَانِیۡ فَاَرۡسِلۡ اِلٰی ہٰرُوۡنَ ﴿۱۳﴾
اور میرا سینہ تنگ پڑتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی، سو تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔ En
اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے تو ہارون کو حکم بھیج کہ میرے ساتھ چلیں
En
اور میرا سینہ تنگ ہو رہا ہے میری زبان چل نہیں رہی پس تو ہارون کی طرف بھی وحی بھیج En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 12 میں تا آیت 14 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

13-1اس خوف سے کہ وہ نہایت سرکش ہے، میری تکذیب کرے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ طبع خوف انبیاء کو بھی لا حق ہوسکتا ہے۔ 13-2یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ حضرت موسیٰ ؑ زیادہ بول نہیں سکتے تھے۔ یا اس طرف کہ زبان پر انگارہ رکھنے کی وجہ سے لکنت پیدا ہوگئی تھی، جسے اہل تفسیر بیان کرتے ہیں۔ 13-1یعنی ان کی طرف جبرائیل ؑ کو وحی دے کر بھیج اور انھیں بھی نبوت سے سرفراز فرما کر میرا معاون بنا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

13۔ میرا سینہ گھٹتا (دم رکتا) ہے اور زبان (بھی) نہیں چلتی۔ لہذا ہارون کو (بھی) رسالت عطا فرما

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔