کَذَّبَتۡ عَادُۨ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۱۲۳﴾ۚۖ
عاد نے رسولوں کو جھٹلایا۔
عاد نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا
عادیوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 123تا127) ➊ { كَذَّبَتْ عَادٌ المُرْسَلِيْنَ …:} نوح علیہ السلام اور ان کے بعد چاروں انبیاء علیھم السلام کے قصوں میں خاص طور پر تقویٰ اور اطاعت کے حکم اور تبلیغ رسالت پر کسی قسم کے بدلے کی نفی سے ظاہر ہوتا ہے کہ انبیاء کی بعثت کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی توحید اور اس کے رسولوں کی اطاعت کا حکم دینا ہے اور یہ کہ انبیاء علیھم السلام دنیاوی طمع سے پاک ہوتے ہیں۔
➋ اس قصے کی اور نوح علیہ السلام کے قصے کی ابتدائی آیات ایک جیسی ہیں، اس لیے ان کی تفسیر دہرانے کی ضرورت نہیں۔ تقابل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۶۵ تا ۷۲) اور ہود (۵۰ تا ۶۰) مزید تفصیلات ان مقامات پر بھی ہیں، سورۂ حٰم السجدہ (۱۳ تا ۱۶)، احقاف (۲۱ تا ۲۶)، ذاریات (۴۱ تا ۴۵)، قمر (۱۸ تا ۲۲) اور سورۂ فجر (۶ تا ۸) قومِ عاد کا مسکن حضر موت کے قریب اس جگہ تھا جسے اب ”الربع الخالی“ کہا جاتا ہے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۶۵)۔
➌ { اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ …:} ہود علیہ السلام کی تقریر سمجھنے کے لیے اس قوم کے متعلق وہ بنیادی معلومات نگاہ میں رہنا ضروری ہیں جو قرآن مجید میں مختلف مقامات پر مذکور ہیں۔ ان کے مطابق قوم نوح کی تباہی کے بعد اس قوم کو عروج عطا ہوا۔ (اعراف: ۶۹) جسمانی لحاظ سے یہ لوگ بڑے تنو مند اور زور آور تھے۔ (اعراف: ۶۹۔ حاقہ: ۷) اس قوم جیسی کوئی قوم پیدا نہیں کی گئی۔ (فجر: ۸) وہ نہایت ترقی یافتہ تھے، اونچے اونچے ستونوں والی بلند و بالا عمارتیں بنانے کی وجہ سے ان کی شہرت ہی ”ستونوں والے“ کے نام سے تھی۔ (فجر: ۶، ۷) مادی ترقی اور جسمانی قوت کی وجہ سے وہ سخت متکبر تھے اور کسی کو اپنے سے طاقتور نہیں مانتے تھے۔ (حٰم السجدہ: ۱۵) ان کا سیاسی نظام بڑے بڑے سرکش جباروں کے ہاتھ میں تھا۔ (ہود: ۵۹) مذہبی لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے منکر نہیں تھے بلکہ مشرک تھے، ایک اللہ کو معبود ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ (اعراف: ۷۰)
➋ اس قصے کی اور نوح علیہ السلام کے قصے کی ابتدائی آیات ایک جیسی ہیں، اس لیے ان کی تفسیر دہرانے کی ضرورت نہیں۔ تقابل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۶۵ تا ۷۲) اور ہود (۵۰ تا ۶۰) مزید تفصیلات ان مقامات پر بھی ہیں، سورۂ حٰم السجدہ (۱۳ تا ۱۶)، احقاف (۲۱ تا ۲۶)، ذاریات (۴۱ تا ۴۵)، قمر (۱۸ تا ۲۲) اور سورۂ فجر (۶ تا ۸) قومِ عاد کا مسکن حضر موت کے قریب اس جگہ تھا جسے اب ”الربع الخالی“ کہا جاتا ہے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۶۵)۔
➌ { اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ …:} ہود علیہ السلام کی تقریر سمجھنے کے لیے اس قوم کے متعلق وہ بنیادی معلومات نگاہ میں رہنا ضروری ہیں جو قرآن مجید میں مختلف مقامات پر مذکور ہیں۔ ان کے مطابق قوم نوح کی تباہی کے بعد اس قوم کو عروج عطا ہوا۔ (اعراف: ۶۹) جسمانی لحاظ سے یہ لوگ بڑے تنو مند اور زور آور تھے۔ (اعراف: ۶۹۔ حاقہ: ۷) اس قوم جیسی کوئی قوم پیدا نہیں کی گئی۔ (فجر: ۸) وہ نہایت ترقی یافتہ تھے، اونچے اونچے ستونوں والی بلند و بالا عمارتیں بنانے کی وجہ سے ان کی شہرت ہی ”ستونوں والے“ کے نام سے تھی۔ (فجر: ۶، ۷) مادی ترقی اور جسمانی قوت کی وجہ سے وہ سخت متکبر تھے اور کسی کو اپنے سے طاقتور نہیں مانتے تھے۔ (حٰم السجدہ: ۱۵) ان کا سیاسی نظام بڑے بڑے سرکش جباروں کے ہاتھ میں تھا۔ (ہود: ۵۹) مذہبی لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے منکر نہیں تھے بلکہ مشرک تھے، ایک اللہ کو معبود ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ (اعراف: ۷۰)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
123-1عاد، ان کے جد اعلٰی کا نام تھا، جس کے نام پر قوم کا نام پڑگیا۔ یہاں عاد قبیلہ تصور کر کے کَذَّبَتْ (صیغہ مؤنث) لایا گیا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
123۔ قوم عاد [82] نے بھی رسولوں کو جھٹلایا تھا۔
[82] قوم نوح کے بعد جس قوم نے دنیا میں نامور اور سربلندی حاصل کی وہ یہی قوم عاد تھی جسے عاد اولیٰ بھی کہتے ہیں۔ یہ قوم اللہ تعالیٰ کی ہستی کی تو قائل تھی مگر شرک میں بری طرح مبتلا تھی۔ ان کا اصل وطن احقاف تھا۔ یہ قوم بڑی قد آور، مضبوط اور سرکش تھی۔ ان کی طرف اللہ تعالیٰ نے ہودؑ کو مبعوث فرمایا۔ اس قوم کا زمانہ عروج اڑھائی ہزار سال قبل مسیح کے لگ بھگ ہے۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ہود علیہ السلام اور ان کی قوم ٭٭
حضرت ہود علیہ السلام کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضر موت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح علیہ السلام کے بعد کا ہے۔ سورۃ الاعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جا بجا دئیے۔
الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی علیہ السلام کو جھٹلایا۔ یہ انہی میں سے تھے نبی علیہ السلام نے انہیں سمجھایا بجھایا ڈرایا دھمکایا۔
الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی علیہ السلام کو جھٹلایا۔ یہ انہی میں سے تھے نبی علیہ السلام نے انہیں سمجھایا بجھایا ڈرایا دھمکایا۔
اپنا رسول ہونا ظاہر فرمایا۔ اپنی اطاعت اور اللہ کی عبادت و وحدانیت کی دعوت دی جیسے کہ نوح علیہ السلام نے دی تھی۔ اپنا بے لاگ ہونا طالب دنیا نہ ہونا بیان فرمایا۔ اپنے خواص کا بھی ذکر کیا یہ جو فخر و ریا کے طور پر اپنے مال برباد کرتے تھے اور اونچے اونچے مشہور ٹیلوں پر اپنی قوت کے اور مال کے اظہار کے لیے بلند و بالا علامتیں بناتے تھے اس فعل عبث سے انہیں ان کے نبی ہود علیہ السلام نے روکا کیونکہ اس میں بے کار دولت کا کھونا وقت کا برباد کرنا اور مشقت اٹھانا ہے جس سے دین دنیا کا کوئی فائدہ نہ مقصود ہوتا ہے نہ متصور۔
بڑے بڑے پختہ اور بلند برج اور مینار بناتے تھے جس کے بارے میں ان کے نبی علیہ السلام نے نصیحت کی کہ ”کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ یہیں ہمیشہ رہو گے محبت دنیا نے تمہیں آخرت بھلادی ہے لیکن یاد رکھو تمہاری یہ چاہت بےسود ہے۔ دنیا زائل ہونے والی ہے تم خود فنا ہونے والے ہو۔“
ایک قرأت میں «کَاَنَّکُمْ خَالِدُوْنَ» ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب مسلمانوں نے غوطہٰ میں محلات اور باغات کی تعمیر اعلی پیمانے پر ضروت سے زیادہ شروع کر دی تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے مسجد میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے دمشق کے رہنے والو سنو! لوگ سب جمع ہو گئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ ”تمہیں شرم نہیں آتی تم خیال نہیں کرتے کہ تم نے وہ جمع کرنا شروع کر دیا جسے تم کھا نہیں سکتے۔ تم نے وہ مکانات بنانے شروع کر دئیے جو تمہارے رہنے سہنے کے کام نہیں آتے تم نے وہ دور دراز کی آرزوئیں کرنی شروع کر دیں جو پوری ہونی محال ہیں۔ کیا تم بھول گئے تم سے اگلے لوگوں نے بھی جمع جتھا کر کے سنبھال سنبھال کر رکھا تھا۔ بڑے اونچے اونچے پختہ اور مضبوط محلات تعمیر کئے تھے بڑی بڑی آرزوئیں باندھی تھیں لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دھوکے میں رہ گئے ان کی پونجی برباد ہو گئی ان کے مکانات اور بستیاں اجڑگئیں۔ عادیوں کو دیکھو کہ عدن سے لے کر عمان تک ان کے گھوڑے اور اونٹ تھے لیکن آج وہ کہاں ہیں؟ ہے کوئی ایسا بیوقوف کہ قوم عاد کی میراث کو دو درہموں کے بدلے بھی خریدے۔“
بڑے بڑے پختہ اور بلند برج اور مینار بناتے تھے جس کے بارے میں ان کے نبی علیہ السلام نے نصیحت کی کہ ”کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ یہیں ہمیشہ رہو گے محبت دنیا نے تمہیں آخرت بھلادی ہے لیکن یاد رکھو تمہاری یہ چاہت بےسود ہے۔ دنیا زائل ہونے والی ہے تم خود فنا ہونے والے ہو۔“
ایک قرأت میں «کَاَنَّکُمْ خَالِدُوْنَ» ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب مسلمانوں نے غوطہٰ میں محلات اور باغات کی تعمیر اعلی پیمانے پر ضروت سے زیادہ شروع کر دی تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے مسجد میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے دمشق کے رہنے والو سنو! لوگ سب جمع ہو گئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ ”تمہیں شرم نہیں آتی تم خیال نہیں کرتے کہ تم نے وہ جمع کرنا شروع کر دیا جسے تم کھا نہیں سکتے۔ تم نے وہ مکانات بنانے شروع کر دئیے جو تمہارے رہنے سہنے کے کام نہیں آتے تم نے وہ دور دراز کی آرزوئیں کرنی شروع کر دیں جو پوری ہونی محال ہیں۔ کیا تم بھول گئے تم سے اگلے لوگوں نے بھی جمع جتھا کر کے سنبھال سنبھال کر رکھا تھا۔ بڑے اونچے اونچے پختہ اور مضبوط محلات تعمیر کئے تھے بڑی بڑی آرزوئیں باندھی تھیں لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دھوکے میں رہ گئے ان کی پونجی برباد ہو گئی ان کے مکانات اور بستیاں اجڑگئیں۔ عادیوں کو دیکھو کہ عدن سے لے کر عمان تک ان کے گھوڑے اور اونٹ تھے لیکن آج وہ کہاں ہیں؟ ہے کوئی ایسا بیوقوف کہ قوم عاد کی میراث کو دو درہموں کے بدلے بھی خریدے۔“
ان کے مال ومکانات کا بیان فرما کر ’ ان کی قوت وطاقت کا بیان فرمایا کہ بڑے سرکش، بتکبر اور سخت لوگ تھے ‘۔ نبی علیہ صلوات اللہ نے انہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا کہ عبادت رب کی کرو اطاعت اس کے رسول کی کرو پھر وہ نعمتیں یاد دلائیں جو اللہ نے ان پر انعام کی تھیں جنہیں وہ خود جانتے تھے۔ مثلا چوپائے جانور اور اولاد باغات اور دریا پھر اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ ”اگر تم نے میری تکذیب کی اور میری مخالفت پر جمے رہے تو تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا لالچ اور ڈر دونوں دکھائے مگر بےسود رہیں۔“