ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 121

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً ؕ وَ مَا کَانَ اَکۡثَرُہُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۲۱﴾
بے شک اس میں یقینا عظیم نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔
بےشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے
یقیناً اس میں بہت بڑی عبرت ہے۔ ان میں سے اکثر لوگ ایمان ﻻنے والے تھے بھی نہیں

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 122،121) {اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً…:} ان آیات کی تفسیر سورت کے شروع میں آیت (۸، ۹) کے تحت گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

121۔ اس واقعہ میں (بھی) ایک نشانی [81] ہے۔ مگر ان میں اکثر لوگ ماننے والے نہیں۔
[81] یعنی حضرت نوح کی قوم کے انجام سے بھی عبرت حاصل کرنے والے عبرت حاصل کر سکتے ہیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ حق کو ٹھکرانے والوں کو نیست و نابود کر دیتا ہے اور اپنے انبیاء اور مومنوں کو ظالموں کے پنجہ سے نجات دلا کر انھیں باقی رکھتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔