(آیت 118){ فَافْتَحْبَيْنِيْوَبَيْنَهُمْفَتْحًا …:} اس فیصلے سے مراد انھیں نیست و نابود کر دینے والا عذاب ہے، جو{”وَنَجِّنِيْوَمَنْمَّعِيَمِنَالْمُؤْمِنِيْنَ“} سے سمجھ میں آ رہا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
118۔ لہٰذا میرے اور ان کے درمیان قطعی فیصلہ کر دے۔ اور مجھے اور میرے ساتھی مومنوں کو ان سے نجات [79] دے۔
[79] بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نوحؑ اور ان کی قوم کے سرداروں میں کوئی دو چار دفعہ ایسے مکالمے اور بحثیں ہوئی ہوں گی۔ لیکن واقعہ ایسا نہیں۔ پورے ساڑھے نو سو سال نوحؑ اور ان کی قوم میں ایسے مکالمے اور بحث و تکرار ہوتی رہی۔ اور جب حضرت نوح اس قوم میں سے کسی نئے فرد کے ایمان لانے سے قطعاً مایوس ہو گئے تو اس وقت آپ نے یہ دعا کی تھی۔ اس دعا کا تفصیلی ذکر سورۃ نوح میں آئے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔