ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 118

فَافۡتَحۡ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَہُمۡ فَتۡحًا وَّ نَجِّنِیۡ وَ مَنۡ مَّعِیَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۱۸﴾
پس تو میرے درمیان اور ان کے درمیان فیصلہ کر دے،کھلا فیصلہ اور مجھے اور میرے ساتھ جو ایمان والے ہیں، انھیں بچالے۔
سو تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کردے اور مجھے اور جو میرے ساتھ ہیں ان کو بچا لے
پس تو مجھ میں اور ان میں کوئی قطعی فیصلہ کردے اور مجھے اور میرے با ایمان ساتھیوں کو نجات دے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 118){ فَافْتَحْ بَيْنِيْ وَ بَيْنَهُمْ فَتْحًا …:} اس فیصلے سے مراد انھیں نیست و نابود کر دینے والا عذاب ہے، جو{ وَ نَجِّنِيْ وَ مَنْ مَّعِيَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ } سے سمجھ میں آ رہا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

118۔ لہٰذا میرے اور ان کے درمیان قطعی فیصلہ کر دے۔ اور مجھے اور میرے ساتھی مومنوں کو ان سے نجات [79] دے۔
[79] بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نوحؑ اور ان کی قوم کے سرداروں میں کوئی دو چار دفعہ ایسے مکالمے اور بحثیں ہوئی ہوں گی۔ لیکن واقعہ ایسا نہیں۔ پورے ساڑھے نو سو سال نوحؑ اور ان کی قوم میں ایسے مکالمے اور بحث و تکرار ہوتی رہی۔ اور جب حضرت نوح اس قوم میں سے کسی نئے فرد کے ایمان لانے سے قطعاً مایوس ہو گئے تو اس وقت آپ نے یہ دعا کی تھی۔ اس دعا کا تفصیلی ذکر سورۃ نوح میں آئے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔