ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 116

قَالُوۡا لَئِنۡ لَّمۡ تَنۡتَہِ یٰنُوۡحُ لَتَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمَرۡجُوۡمِیۡنَ ﴿۱۱۶﴾ؕ
انھوں نے کہا اے نوح! یقینا اگر تو باز نہ آیا تو ہر صورت سنگسار کیے گئے لوگوں سے ہوجائے گا۔
انہوں نے کہا کہ نوح اگر تم باز نہ آؤ گے تو سنگسار کردیئے جاؤ گے
انہوں نے کہاکہ اے نوح! اگر تو باز نہ آیا تو یقیناً تجھے سنگسار کردیا جائے گا

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 116) {قَالُوْا لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ يٰنُوْحُ …:} نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کی یہ گفتگو دو چار مواقع کی بات نہیں بلکہ ان کے ساتھ ان کی قوم کی یہ کش مکش ساڑھے نو سو (۹۵۰) برس جاری رہی۔ جیسے جیسے آپ دعوت کے کام میں آگے بڑھتے گئے وہ بدی میں آگے بڑھتے گئے۔ آخر کار تمام ظالم و جابر لوگوں کی طرح، جو دلیل میں لاجواب ہو کر دھمکیوں اور تشدد پر اتر آتے ہیں، نوح علیہ السلام کی قوم نے بھی صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ آئندہ اگر تم اپنی دعوت سے باز نہ آئے تو ہم پتھر مار مار کر تمھیں ختم کر دیں گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

116۔ وہ کہنے لگے: ”نوح! اگر تم باز نہ آئے تو تمہیں سنگسار [78] کر دیا جائے گا۔
[78] ﴿رَجَمَ﴾ کا لغوی معنی:۔
لفظ من المرجومین کے بھی دو مطلب ہیں۔ ﴿رجم﴾ کے معنی دور سے پتھر، کنکر وغیرہ پھینکنا اور جان سے مار ڈالنا یا سنگسار کرنا ہے اور یہ معنی ترجمہ میں مذکور ہیں۔ پھر یہ لفظ مادی اور معنوی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ اور رجیم اور مرجوم وہ شخص یا چیز ہے۔ جس پر لعنت اور پھٹکار پڑتی رہے۔ یعنی قوم نوح کے چودھریوں نے حضرت نوحؑ سے کہا کہ اگر تم اپنی دعوت و تبلیغ سے باز نہ آئے تو ہر طرف سے تم پر لعنت اور پھٹکار پڑتی رہا کرے گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

تذکرہ نوح علیہ السلام ٭٭
لمبی مدت تک جناب نوح علیہ السلام ان میں رہے دن رات چھپے کھلے انہیں اللہ کی راہ کی دعوت دیتے رہے لیکن جوں جوں آپ علیہ السلام اپنی نیکی میں بڑھتے گئے وہ اپنی بدی میں سوار ہوتے گئے بالآخر زور باندھتے باندھتے صاف کہہ دیا کہ اگر اب ہمیں اپنے دین کی دعوت دی تو ہم تجھ پر پتھراؤ کر کے تیری جان لے لیں گے۔‏‏‏‏
آپ علیہ السلام کے ہاتھ بھی جناب باری میں اٹھ گئے قوم کی تکذیب کی شکایت آسمان کی طرف بلند ہوئی۔ اور آپ نے فتح کی دعا کی فرمایا کہ اے اللہ! میں مغلوب اور عاجز ہوں میری مدد کر میرے ساتھ میرے ساتھیوں کو بھی بچا لے۔‏‏‏‏
پس جناب باری عزوجل نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول کی۔ انسانوں جانوروں اور سامان اسباب سے کچھا کچھ بھری ہوئی کشتی میں سوار ہو جانے کا حکم دے دیا۔
یقیناً یہ واقعہ بھی عبرت آموز ہے لیکن اکثر لوگ بےیقین ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رب بڑے غلبے والا لیکن وہ مہربان بھی بہت ہے ‘۔