(آیت 110) {فَاتَّقُوااللّٰهَوَاَطِيْعُوْنِ:} یہ آیت دوبارہ آئی ہے، اس کے تکرار میں حکمت یہ ہے کہ پہلی آیت میں رسول امین کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور اس کو جھٹلانے پر اللہ سے ڈرایا ہے اور اس آیت میں اس رسول کو جھٹلانے پر اللہ تعالیٰ سے ڈرایا ہے جو پیغامِالٰہی پہنچانے میں کسی اجرت کا مطالبہ نہیں کرتا۔ فرمایا، ایسے بے لوث خیر خواہ کو جھٹلاتے ہوئے اللہ سے ڈرو اور اس کی اطاعت کرو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
110-1یہ تاکید کے طور پر بھی ہے اور الگ الگ سبب کی بنا پر بھی، پہلے اطاعت کی دعوت، امانت داری کی بنیاد پر تھی اور اب یہ دعوت اطاعت عدم طمع کی وجہ سے ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
110۔ لہٰذا تم اللہ سے ڈرتے رہو اور میری اطاعت کرو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔