ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 102

فَلَوۡ اَنَّ لَنَا کَرَّۃً فَنَکُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۰۲﴾
تو کاش کہ ہمارے لیے واپس جانے کا ایک موقع ہو، توہم مومنوں میں سے ہو جائیں۔
کاش ہمیں (دنیا میں) پھر جانا ہو تم ہم مومنوں میں ہوجائیں
اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا تو ہم پکے سچے مومن بن جاتے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 102) {فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً …:} کفار کی اس تمنا کا ذکر قرآن میں متعدد مقامات پر ہے اور یہ بھی کہ ان کی یہ تمنا کبھی پوری نہیں ہو گی۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۶۷)، انعام (۲۷، ۲۸) اور مؤمنون (۱۰۶ تا ۱۰۸)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

12-1اہل کفر و شرک، قیامت کے روز دوبارہ دنیا میں آنے کی آرزو کریں گے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرکے اللہ کو خوش کرلیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا ہے کہ اگر انھیں دوبارہ بھی دنیا میں بھیج دیا جائے تو وہی کچھ کریں گے جو پہلے کرتے رہے تھے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

102۔ کاش! اگر ہمیں ایک دفعہ پھر (دنیا میں) لوٹنے کا موقع مل جائے تو ہم مومنوں [69] میں شامل ہوں
[69] مجرموں اور جہنمیوں کے اس قول اور اس آرزو کا ذکر بھی قرآن میں متعدد بار آیا ہے اور ساتھ ہی اس کا جواب بھی مذکور ہے۔ یعنی ان کو اگر دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تو پھر بھی وہ وہی کام کریں گے جیسے پہلے کرتے رہے ہیں [16: 28] کیونکہ انسان کی تو عادت ہی یہ ہے کہ مشکل کے وقت جب جان پر بن جاتی ہے تو اس وقت وہ صرف ایک اللہ ہی کو یاد کرتا ہے اور دوسرے معبودوں کو بھول جاتا ہے۔ لیکن جب اللہ اسے مصیبت سے نجات دے دیتا ہے تو بعد میں وہ پھر اللہ کو بھول جاتا ہے اور اپنے معبودوں کو ہی پکارنے لگ جاتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔