(آیت 101) {وَلَاصَدِيْقٍحَمِيْمٍ: ”صَدِيْقٍ“} جو دوستی میں سچا ہو اور {”حَمِيْمٍ“} جسے دوست کی وجہ سے گرمی آتی ہو، یعنی دلی دوست۔ {”حَمِيْمٍ“} کا معنی رشتہ دار بھی ہے۔ یعنی کفار کا قیامت کے دن کوئی دلی دوست ہو گا نہ رشتے دار، سب ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے، جب کہ مومنوں کے دوست انبیاء، فرشتے اور تمام مومن ہوں گے، جیسا کہ فرمایا: «{ اَلْاَخِلَّآءُيَوْمَىِٕذٍۭبَعْضُهُمْلِبَعْضٍعَدُوٌّاِلَّاالْمُتَّقِيْنَ }»[الزخرف: ۶۷]”سب دلی دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر متقی لوگ۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
11-1گناہ گار اہل ایمان کی سفارش تو اللہ کی اجازت کے بعد انبیاء صلحاء بالخصوص حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے۔ لیکن کافروں اور مشرکوں کے لئے سفارش کرنے کی کسی کو اجازت ہوگی نہ حوصلہ، اور نہ وہاں کوئی دوستی ہی کام آئے گی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
101۔ نہ کوئی مخلص دوست ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔