ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 101

وَ لَا صَدِیۡقٍ حَمِیۡمٍ ﴿۱۰۱﴾
اور نہ کوئی دلی دوست۔
اور نہ گرم جوش دوست
اور نہ کوئی (سچا) غم خوار دوست

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 101) {وَ لَا صَدِيْقٍ حَمِيْمٍ: صَدِيْقٍ } جو دوستی میں سچا ہو اور { حَمِيْمٍ } جسے دوست کی وجہ سے گرمی آتی ہو، یعنی دلی دوست۔ { حَمِيْمٍ } کا معنی رشتہ دار بھی ہے۔ یعنی کفار کا قیامت کے دن کوئی دلی دوست ہو گا نہ رشتے دار، سب ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے، جب کہ مومنوں کے دوست انبیاء، فرشتے اور تمام مومن ہوں گے، جیسا کہ فرمایا: «{ اَلْاَخِلَّآءُ يَوْمَىِٕذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِيْنَ [الزخرف: ۶۷] سب دلی دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر متقی لوگ۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

11-1گناہ گار اہل ایمان کی سفارش تو اللہ کی اجازت کے بعد انبیاء صلحاء بالخصوص حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے۔ لیکن کافروں اور مشرکوں کے لئے سفارش کرنے کی کسی کو اجازت ہوگی نہ حوصلہ، اور نہ وہاں کوئی دوستی ہی کام آئے گی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

101۔ نہ کوئی مخلص دوست ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔