قُلۡ مَا یَعۡبَؤُا بِکُمۡ رَبِّیۡ لَوۡ لَا دُعَآؤُکُمۡ ۚ فَقَدۡ کَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ یَکُوۡنُ لِزَامًا ﴿٪۷۷﴾
کہہ میرا رب تمھاری پروا نہیں کرتا اگر تمھارا پکارنا نہ ہو، سو بے شک تم نے جھٹلا دیا، تو عنقریب (اس کا انجام) چمٹ جانے والا ہوگا۔
En
کہہ دو کہ اگر تم (خدا کو) نہیں پکارتے تو میرا پروردگار بھی تمہاری کچھ پروا نہیں کرتا۔ تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا (تمہارے لئے) لازم ہوگی
En
کہہ دیجئے! اگر تمہاری دعا التجا (پکارنا) نہ ہوتی تو میرا رب تمہاری مطلق پروا نہ کرتا، تم تو جھٹلا چکے اب عنقریب اس کی سزا تمہیں چمٹ جانے والی ہوگی
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
اس آیت کی تفسیر آیت 76 میں میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
77-1دعا والتجا کا مطلب، اللہ کو پکارنا اور اس کی عبادت کرنا اور مطلب یہ ہے کہ تمہارا مقصد تخلیق اللہ کی عبادت ہے، اگر یہ نہ ہو تو اللہ کو تمہاری کوئی پرواہ نہ ہو۔ یعنی اللہ کے ہاں انسان کی قدر و قیمت، اس کے اللہ پر ایمان لانے اور اس کی عبادت کرنے کی وجہ سے ہے۔ 77-2اس میں کافروں سے خطاب ہے کہ تم نے اللہ کو جھٹلا دیا، سو اب اس کی سزا بھی لازماً تمہیں چکھنی ہے۔ چناچہ دنیا میں یہ سزا بدر میں شکست کی صورت میں انھیں ملی اور آخرت میں جہنم کے دائمی عذاب سے بھی انھیں دو چار ہونا پڑے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
77۔ (اے نبی! آپ لوگوں سے) کہہ دیجئے کہ اگر تم اسے نہیں پکارتے تو میرے پروردگار کو تمہاری کوئی پرواہ [95] نہیں۔ تم تو (حق کو) جھٹلا چکے اب [96] جلد ہی اس کی ایسی سزا پاؤ گے جس سے جان چھڑانا محال ہو گی۔
[95] اللہ کی بے نیازی :۔
یعنی اگر تم اللہ کو پکارو گے اس کی عبادت کرو گے اس کے حضور توبہ استغفار کرو گے اس سے اپنی حاجتیں طلب کرو گے تو اس میں تمہارا اپنا ہی بھلا ہے۔ اور اگر تم ان باتوں میں بے نیازی کا مظاہرہ کرو گے تو اللہ کی کوئی ضرورت تمہاری پکار اور دعا یا عبادت نہ کرنے کی وجہ سے اٹکی ہوئی نہیں ہے۔ اس آیت کی تفسیر کے لئے درج ذیل حدیث قدسی ملاحظہ فرمائیے۔ حضرت ابوذرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:”اے میرے بندو! تم نہ میرا کچھ نقصان کر سکتے ہوں اور نہ مجھے کچھ فائدہ پہنچا سکتے ہو۔ اگر تمہارے اگلے اور پچھلے اور آدمی اور جن سب ایسے ہو جائیں جیسے تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار شخص ہے تو اس سے میری سلطنت میں کچھ افزائش نہ ہو گی۔ اور اگر تمہارے اگلے پچھلے اور آدمی اور جن سب ایسے ہو جائیں جیسے تم میں کوئی سب سے زیادہ بدکردار ہے تو بھی میری سلطنت میں کچھ کمی واقع نہ ہو گی۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے اور آدمی اور جن سب ایک میدان میں جمع ہو کر مجھ سے مانگنا شروع کر دیں اور میں ہر ایک کو وہی کچھ دیتا جاؤں جو کچھ اس نے مانگا ہے تو جو کچھ میرے پاس ہے اس میں سے کچھ بھی کم نہ ہو گا۔ مگر اتنا جیسے سمندر میں سوئی کو ڈبو کر نکال لیا جاتا ہے۔ اے میرے بندو! یہ تمہارے ہی اعمال ہیں جنہیں میں تمہارے لئے شمار کرتا رہتا ہوں۔ پھر تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا۔ سو جس کو اچھا بدلہ ملا اسے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے اور اس کی حمد و ثنا بیان کرنا چاہئے اور جسے برا بدلہ ملے تو اسے اپنے آپ ہی کو ملامت کرنا چاہئے۔“ [مسلم۔ کتاب البرو الصلۃ۔ باب تحریم الظلم]
[96] کیا اچھے اور برے اعمال کے نتائج لابدی ہیں:۔
اس آیت کے مخاطب قریش مکہ ہیں۔ جنہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی جھٹلایا اور اس کی آیات کو بھی۔ اس تکذیب کا انجام ان کے گلے کا ہار بن گیا۔ ان پر اللہ کی گرفت کا آغاز غزوہ بدر سے ہوا۔ اور اس گرفت میں دم بدم اضافہ ہی ہوتا گیا حتیٰ کہ جب مکہ فتح ہوا تو انہیں اپنی جان کے لالے پڑ گئے۔ اور جزیرہ عرب سے کفر و شرک یا کافروں اور مشرکوں کا نام و نشان تک مٹ گیا اور ان میں سے وہی زندہ رہے جنہوں نے اسلام کی آغوش میں پناہ لے لی۔ اس آیت سے ایک گمراہ فرقہ نے یہ استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نیکی اور بدی کے لئے جزا و سزا کے جو قانون مقرر کر رکھے ہیں۔ وہ لابدی ہیں اور ان میں کسی طرح کا تخلف نہیں ہو سکتا۔ اس سلسلہ میں ان کی گمراہی یہ نہیں کہ انہوں نے اس آیت سے غلط نتیجہ نکالا ہے بلکہ گمراہی یہ ہے کہ انہوں نے صرف اس آیت یا اس جیسی ہی دوسری آیات کو مد نظر رکھا ہے۔ اور وہ آیات جن میں اللہ کی مغفرت اور رحمت کا ذکر ہے۔ ان کو پس انداز کر دیا ہے۔ اللہ کے عدل کا تقاضا صرف یہ ہے کہ کسی ظالم کو اس کے جرم سے زیادہ سزا نہ دے اور کسی محسن کو اس کی نیکی کے برابر جزا ضرور دے۔ اس سے کم نہ دے۔ اور اللہ کا غفور اور رحیم ہونا عدل کے منافی نہیں بلکہ اس سے بلند تر صفت ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ محسن کو اس کی نیکی کے تناسب سے بہت زیادہ بدلہ دے دے یا کسی ظالم کو کسی مصلحت کی بنا پر معاف کر دے اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مرضی پر منحصر ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔