(آیت 66) { اِنَّهَاسَآءَتْمُسْتَقَرًّاوَّمُقَامًا:”مُسْتَقَرًّا“} کچھ مدت ٹھہرنے کی جگہ گناہ گار مسلمانوں کے لیے اور {”مُقَامًا“} ہمیشہ اقامت کی جگہ کفار کے لیے۔ یہ جملہ بھی رب رحمان اور عباد الرحمان دونوں کا ہو سکتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
66۔ بلا شبہ وہ جائے قرار بھی بری ہے [83] اور مقام بھی برا ہے۔
[83] ایمان کا تقاضا اللہ سے امید بھی اور ڈر بھی :۔
یعنی راتوں کی عبادت یا ان کے دوسرے نیک اعمال انہیں اس غلط فلمی میں مبتلا نہیں کر دیتے کہ اب وہ یقینی طور پر جنت کے مستحق ہو گئے ہیں۔ نہ ہی ان میں ان اعمال کی بجا آوری پر پندار نفس یا غرور پیدا ہوتا ہے۔ جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے: غرور زہد نے سیکھلا دیا ہے واعظ کو کہ بندگانِ خدا پر زبان دراز کرے بلکہ وہ اللہ سے یہ دعا بھی کرتے رہتے ہیں کہ اگر ان اعمال کی بجا آوری میں کچھ تقصیر ہو گئی ہے تو معاف فرما دے۔ ان اعمال کو جیسے بھی وہ ہیں قبول فرما لے اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچائے رکھنا گویا اللہ کے بندوں کی چوتھی صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ اپنے اعمال پر بھروسہ نہیں کر بیٹھتے بلکہ ان کا اصل اعتماد اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔