اور جب ان سے کہا جاتا ہے رحمان کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں اور رحمان کیا چیز ہے؟ کیا ہم اسے سجدہ کریں جس کے لیے تو ہمیں حکم دیتا ہے اور یہ بات انھیں بدکنے میں بڑھا دیتی ہے۔
En
اور جب ان (کفار) سے کہا جاتا ہے کہ رحمٰن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں رحمٰن کیا؟ کیا جس کے لئے تم ہم سے کہتے ہو ہم اس کے آگے سجدہ کریں اور اس سے بدکتے ہیں
ان سے جب بھی کہا جاتا ہے کہ رحمٰن کو سجده کرو تو جواب دیتے ہیں رحمٰن ہے کیا؟ کیا ہم اسے سجده کریں جس کا تو ہمیں حکم دے رہا ہے اور اس (تبلیﻎ) نےان کی نفرت میں مزید اضافہ کردیا
En
(آیت 60) {وَاِذَاقِيْلَلَهُمُاسْجُدُوْالِلرَّحْمٰنِ …:} اس آیت کی دو تفسیریں ہیں، ایک یہ کہ مشرکین مکہ زمین و آسمان کے خالق کے لیے ”اللہ“ کا لفظ تو مانتے تھے، لیکن وہ اس کے نام ”رحمان“ سے مانوس نہ تھے، اس لیے اسے سنتے ہی چڑ جاتے تھے۔ دیکھیے سورۂ رعد (۳۰) اور بنی اسرائیل (۱۱۰) دوسری تفسیر اس کی یہ ہے کہ وہ لوگ یہ بات کہ ”رحمان چیز کیا ہے“ محض کافرانہ شوخی اور سراسر ہٹ دھرمی کی بنا پر کہتے تھے، جس طرح فرعون نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا: «{ وَمَارَبُّالْعٰلَمِيْنَ }»[الشعراء: ۲۳]”اور رب العالمین کیا چیز ہے؟“ حالانکہ نہ کفار مکہ اس بے حد رحم والی ہستی سے بے خبر تھے اور نہ فرعون رب العالمین سے نا واقف تھا، جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام نے اسے برملا کہا تھا: «{ لَقَدْعَلِمْتَمَاۤاَنْزَلَهٰۤؤُلَآءِاِلَّارَبُّالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِبَصَآىِٕرَ }»[بنی إسرائیل: ۱۰۲]”بلاشبہ یقینا تو جان چکا ہے کہ انھیں آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا کسی نے نہیں اتارا، اس حال میں کہ واضح دلائل ہیں۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
60-1رَحْمٰن،رَحِیْماللّٰہ کی صفات اور اسمائے حسنٰی میں سے ہیں لیکن اہل جاہلیت، اللہ کو ان ناموں سے نہیں پہچانتے تھے جیسا کہ صلح حدیبیہ کے موقعے پر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدے کے آغاز پر بِسْمِاللّٰہِالرَّحمٰنِالرَّحِیْمِ لکھوایا تو مشرکین مکہ نے کہا، ہم رحمٰن و رحیم کو نہیں جانتے۔ بِاسْمِکَاللَّھُمَّ! لکھو (سیرت ابن ہشام۔-2317 مذید دیکھئے (كَذٰلِكَاَرْسَلْنٰكَفِيْٓاُمَّةٍقَدْخَلَتْمِنْقَبْلِهَآاُمَمٌلِّتَتْلُوَا۟عَلَيْهِمُالَّذِيْٓاَوْحَيْنَآاِلَيْكَوَهُمْيَكْفُرُوْنَبالرَّحْمٰنِ ۭ قُلْهُوَرَبِّيْلَآاِلٰهَاِلَّاهُوَ ۚ عَلَيْهِتَوَكَّلْتُوَاِلَيْهِمَتَابِ) 13۔ الرعد:30) (قُلِادْعُوااللّٰهَاَوِادْعُواالرَّحْمٰنَ ۭ اَيًّامَّاتَدْعُوْافَلَهُالْاَسْمَاۗءُالْحُسْنٰى ۚ وَلَاتَجْـهَرْبِصَلَاتِكَوَلَاتُخَافِتْبِهَاوَابْتَغِبَيْنَذٰلِكَسَبِيْلًا) 17۔ الاسراء:110) یہاں بھی ان کا رحمٰن کے نام سے بدکنے اور سجدہ کرنے سے گریز کرنے کا ذکر ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
60۔ اور جب انھیں کہا جاتا ہے کہ رحمن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں کہ ”رحمن“ کیا ہوتا ہے؟[75] کیا ہم اس کو سجدہ کریں جس کا تو ہمیں حکم دیتا ہے؟“ اور (یہ دعوت) ان کی نفرت میں مزید اضافہ [76] کر دیتی ہے۔
[75] رحمٰن کے لفظ سے قریش کی چڑ:۔
قریش مکہ کے سامنے جب رحمٰن کا ذکر کیا جاتا تو از راہ تحقیر کہا کرتے کہ ”رحمٰن کیا ہوتا ہے “یہاں ذوی العقول کے لئے ما کا لفظ اسی مفہوم میں استعمال ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ قریش رحمٰن سے ناواقف محض تھے بلکہ یہ تھی رحمٰن کا لفظ ان کے ہاں مروج نہ تھا۔ اور انہیں اس لفظ سے چڑ سی ہو گئی تھی جیسا کہ پہلے سورۃ رعد کی آیت نمبر 30 کے حاشیہ 39 میں گزر چکا ہے اور جب انہیں رحمٰن کو سجدہ کرنے کو کہا جاتا تو یکدم بھڑک اٹھتے تھے اور ان کی حرکت محض ضد اور تعصب کی وجہ سے ہوتی تھی۔ ورنہ اگر انہیں فی الواقع رحمٰن کا علم نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ان پر گرفت کرنے کے بجائے انہیں نرمی سے سمجھا اور بتا سکتے تھے۔ [76] اس آیت کی اختتام پر سجدہ تلاوت مشروع ہے۔ قاری کے لئے بھی اور سامع کے لئے بھی تاکہ اللہ کی اطاعت گزاروں اور قریش مکہ جیسے اسلام دشمنوں کے درمیان فرق معلوم ہو سکے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔